حماس نے نئی قیادت کے انتخاب کے لیے تیاریاں شروع کردیں

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ کے دوران تنظیم کے کئی سینئر رہنماؤں کی شہادت کے بعد اپنی قیادت کو ازسرِنو منظم کرنے کے لیے اندرونی انتخابات کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

حماس کے ایک سینئر رہنما نے پیر کے روز بتایا کہ داخلی تیاریوں کا عمل جاری ہے تاکہ ان علاقوں میں جہاں زمینی حالات اجازت دیں، مناسب وقت پر انتخابات کرائے جا سکیں۔

انتخابات رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں متوقع

حماس رہنما کے مطابق یہ انتخابات رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں متوقع ہیں، تاہم اس کا انحصار زمینی حالات پر ہوگا۔
اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

غزہ میں بدترین انسانی بحران

جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے 20 لاکھ سے زائد شہری انتہائی خراب انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں خوراک، پانی، طبی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔

نئی شوریٰ کونسل کی تشکیل

قیادت کی تجدید کے عمل میں 50 رکنی نئی شوریٰ کونسل کی تشکیل بھی شامل ہے، جو ایک مشاورتی ادارہ ہے اور اس میں بڑی تعداد میں مذہبی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔

۔شوریٰ کونسل کے ارکان کا انتخاب ہر 4 سال بعد حماس کی 3 شاخوں کے ذریعے کیا جاتا ہے غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارہ، حماس کی بیرونِ ملک قیادت۔

اس کے علاوہ اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے اسیران بھی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوتے ہیں۔

ماضی میں انتخابات کا طریقہ کار

اکتوبر 2023 سے قبل ہونے والے انتخابات میں غزہ اور مغربی کنارے کے ارکان مختلف مقامات، بشمول مساجد، میں جمع ہو کر شوریٰ کونسل کے ارکان کا انتخاب کرتے تھے۔

سیاسی بیورو اور سربراہ کا انتخاب

شوریٰ کونسل ہر 4 سال بعد 18 رکنی سیاسی بیورو اور اس کے سربراہ کا انتخاب کرتی ہے، جو حماس کا سربراہ ہوتا ہے۔

سیاسی بیورو کے انتخابات غیر یقینی

انتخابی عمل سے واقف حماس کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ سیاسی بیورو کے انتخابات کا وقت ابھی غیر یقینی ہے، کیونکہ ہمارے عوام جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ انتہائی مشکل ہیں۔

حماس کی قیادت میں حالیہ تبدیلیاں

یاد رہے کہ جولائی 2024 میں اسرائیل نے حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا تھا، جس کے بعد حماس نے غزہ میں اپنے سربراہ یحییٰ سنوار کو نیا قائد منتخب کیا۔

اسرائیل نے یحییٰ سنوار پر 7 اکتوبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا تھا۔
بعد ازاں، ہنیہ کی شہادت کے تقریباً 3 ماہ بعد، رفح میں اسرائیلی کارروائی کے دوران یحییٰ سنوار بھی شہید ہو گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟