سپریم کورٹ کے ججز کی عالمی کانفرنس برائے آئین میں شرکت، عدلیہ میں ٹیکنالوجی کے ذمہ درانہ استعمال پر زور

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ پاکستان کے ججز جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل وفد نے اکتوبر 2025 میں ورلڈ کانفرنس آن کانسٹیوشنل میں شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق ججز نے عدالتی آزادی، اختیارات کی تقسیم اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر تفصیلی مباحثہ میں حصہ لیا۔ انہوں نے بڑھتی عوامی توقعات اور ادارہ جاتی دباؤ کے تناظر میں عدلیہ کے کردار پر بھی بات کی۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون، کیا عدلیہ اور پنجاب حکومت آمنے سامنے ہیں؟

سپریم کورٹ کے وفد نے عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر خصوصی زور دیا اور واضح کیا کہ اے آئی انسانی عدالتی فہم کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی وفد کی کانفرنس میں فلسطینی اور ترک عدالتی وفود سے اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ترک وفد سے بات چیت میں قومی سلامتی اور آئینی آزادیوں کے توازن پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان اور ترکی کے تاریخی و برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی فورم پر سپریم کورٹ پاکستان نے آئینی بالادستی سے وابستگی کا اظہار کیا اور کانفرنس سے حاصل ہونے والے تجربات سے پاکستان میں عدالتی اصلاحات کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شادی کے 2 ماہ بعد خاتون محبوب کے ساتھ فرار، شوہر اور رشتہ کرانے والے نے خودکشی کرلی

’اسکول میں موٹیویٹ کرتے تھے اب پیزا ڈیلیور کررہے ہو‘، سابق کلاس فیلو کا ڈیلیوری بوائے پر طنز، ویڈیو وائرل

گل پلازہ سانحے کے پیچھے قبضہ مافیا ہوسکتی ہے، فیصل ایدھی نے خدشات کا اظہار کردیا

کیا ’نیو اسٹارٹ‘ کے خاتمے سے نئے ایٹمی خطرات بڑھ جائیں گے؟

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے