وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات اگر عام لوگوں تک پہنچے تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے رویے درست نہیں کریں گے تو آئین اور قانون میں جو بھی لکھیں فائدہ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے وقت وزیراعظم نے مجھے کہا کہ ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی نظام پر آنے والے مسودے پر جو جماعتیں تیار ہیں ان کے ساتھ بیٹھیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد کا نیا بلدیاتی نظام، ایک شہر، 3 میئر، کوئی فائدہ ہو گا؟
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم سے قبل یا بعد میں صوبوں اور وفاق کا رشتہ ہے وہ برقرار رہے لیکن اگر ہم درست معنوں میں اختیارات کی منتقلی چاہتے ہیں تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے بغیر ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم سب کو کھلے ذہن کے ساتھ بیٹھ کر قومی ڈائیلاگ کرنا چاہیے کہ ہمیں ایک پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہیے، اسی میں پاکستان کی بھلا ہے۔














