وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں شجرکاری اور درختوں کے حوالے سے پھیلنے والے خدشات اور تنقید کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی پالیسی کے تحت درختوں کے تحفظ اور اضافے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
وزیر مملکت نے بتایا کہ اسلام آباد میں اب تک 29 ہزار 115 درخت ہٹائے گئے ہیں، تاہم اس کے مقابلے میں 8 سے 10 فٹ سے زائد قد کے 40 ہزار درخت لگائے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری کی بعض اقسام کا موسم ابھی باقی ہے، اسی لیے آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں مزید درخت لگائے جائیں گے۔
اسلام آباد سے 29115 ہزار درخت ہٹائے گئے ہیں جبکہ 40 ہزار ان سے بڑے قد کے درخت لگائے گئے ہیں اور شجرکاری کے موسم میں 30 مارچ تک ان جگہوں پر 60000 نئے درخت لگائے جائیں گے، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری pic.twitter.com/BW8bTrKDd1
— WE News (@WENewsPk) January 13, 2026
طلال چوہدری کے مطابق رواں برس 30 مارچ تک انہی مقامات پر 60 ہزار مزید درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ درختوں اور گرینری کے حوالے سے حقائق جانچنے کے لیے سپارکو کی سیٹلائٹ امیجری، گوگل میپس اور این ڈی وی آئی جیسے بین الاقوامی طریقہ کار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے ایوان اور صحافیوں کو دعوت دی کہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خود ڈیٹا کا جائزہ لیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی، حکومت نے ماحولیاتی بحالی کے لیے وضاحت دے دی
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر کہیں گرین ایریا کو براؤن ایریا میں تبدیل کیا گیا ہوگا تو اس کے شواہد سامنے آ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق 2020 تک گرینری میں کمی دیکھی گئی، تاہم 2025 سے 2030 کے ڈیٹا میں گرینری کی شرح پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کسی مخصوص منصوبے یا سیکٹر میں بلاجواز درخت کاٹے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سوشل میڈیا کی غلط مہم، سی ڈی اے نے مؤقف واضح کر دیا
طلال چوہدری نے زور دیا کہ بلا تحقیق تنقید کو فیشن نہیں بنانا چاہیے اور وفاقی دارالحکومت کو بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے چیئرمین یا کسی افسر پر ذاتی حملے درست نہیں کیونکہ تمام فیصلے پالیسی اور حکومتی احکامات کے تحت کیے جاتے ہیں، جن کی ذمہ داری حکومت قبول کرتی ہے۔
وزیر مملکت نے سی ڈی اے کے افسران کو پیشہ ور اور قابل قرار دیتے ہوئے کہا کہ منفی تنقید کے بجائے اچھے کام کی تعریف ہونی چاہیے۔














