پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ 8 فروری کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل فی الحال ظاہر نہیں کیا جا رہا، تاہم ڈی چوک جانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے باہر اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جھوٹے مقدمات میں وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کی پھر کسی کو اجازت نہ ملی، بہنوں کا جیل کے قریب دھرنا، سیکیورٹی سخت
ان کا کہنا تھا کہ 50 سے 60 ججز کو عدالتی نظام سے ہٹایا گیا، جبکہ وہ ججز جو ضمیر کے مطابق فیصلے دینا چاہتے تھے، انہیں بھی الگ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ انصاف کا نظام عملاً دفن ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان قانون کی حکمرانی کی بات کر رہے ہیں لیکن فیصلوں کا عندیہ جج سے پہلے ٹی وی اینکرز دے دیتے ہیں۔
علیمہ خان نے کہاکہ عوام ٹیکس سہولیات اور انصاف کے لیے ادا کرتے ہیں، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بندوق کے زور پر ملک نہیں چلایا جا سکتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کا مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیوں نہیں سنا جا رہا اور چیف جسٹس ڈوگر بانی کے وکالت نامے پر دستخط کیوں نہیں ہونے دے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں عوام بڑی تعداد میں باہر نکلے، لوگ زیادہ دیر تک یہ صورتحال برداشت نہیں کریں گے، اسی لیے جلدی کی جا رہی ہے کہ 8 فروری سے پہلے انہیں جیل بھیج دیا جائے۔
دوسری جانب علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے بتایا کہ 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں آج استغاثہ کے گواہ، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل پر جرح کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ الزام یہ ہے کہ علیمہ خان نے 24 نومبر کے احتجاج سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا پیغام عوام تک پہنچایا، تاہم گواہ نے تسلیم کیا کہ جس دن یہ پیغام دیا گیا، اس روز علیمہ خان کے خلاف کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی تھی۔
وکیل کے مطابق گواہ نے یہ بھی مانا کہ وہ ابتدا سے اس کیس کی تفتیش کا حصہ نہیں تھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اڈیالہ جیل سے کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی عمل نہیں ہوا اور یہ مقدمہ سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت میں علیمہ خان اور دیگر کے خلاف 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل علی امیر شاہ کی شہادت پر صفائی کے وکیل نے جرح مکمل کی۔ عدالت نے استغاثہ کے 17 گواہان کو جرح کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔
تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل صفائی اور پراسیکیوشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے اعتراض کیا کہ غیر متعلقہ سوالات کیے جا رہے ہیں، جس پر فیصل ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ جرح کرنا وکیل صفائی کا قانونی حق ہے۔
جرح کے دوران گواہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل میں احتجاج کی بات کی تھی، تاہم پُرامن احتجاج کا ذکر نہیں کیا۔
انہوں نے کہاکہ جیل میں ٹرائل کے دوران بانی پی ٹی آئی کے ساتھ تین سے چار افسران موجود ہوتے ہیں، جبکہ 13 اور 22 نومبر کو علیمہ خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی۔ گواہ کے مطابق جس دن احتجاج کی کال دی گئی، اس دن عدالت میں 6 سے 7 صحافی بھی موجود تھے۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل نے بیان دیا کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے ماتحت ہے اور سیاسی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہاکہ علیمہ خان اس مقدمے میں کبھی شاملِ تفتیش نہیں رہیں، جبکہ 13 دسمبر 2024 کو سی پی او راولپنڈی نے ملاقاتوں کی فہرست طلب کی تھی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے کسی حکم سے وہ لاعلم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں داخل ہونے والے تمام افراد کا ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان اڈیالہ جیل سے منتقل نہیں ہوئے نہ ہی ان کی صحت خراب ہے، رانا ثنااللہ
سماعت سے قبل وکیل صفائی نے آئندہ تاریخ پر جرح کی استدعا کی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر جرح نہ کی گئی تو اسٹیٹ کونسل مقرر کیا جائے گا۔
بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے 8 گواہان کو آئندہ سماعت پر جرح کے لیے طلب کر لیا۔














