سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے کراچی دورے کے دوران 9 مئی جیسے ناخوشگوار واقعات دہرائے جانے کی کوشش کی گئی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے دورے سے قبل سیکیورٹی خطرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور حفاظتی منصوبہ بھی بنایا گیا تھا، تاہم طے شدہ روٹس اور مقامات کے برخلاف دورے کیے گئے۔
سید ناصر شاہ نے پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے تمام انتظامات کی پیشکش کی، حتیٰ کہ یہ بھی کہا کہ اگر آپ کے پاس افراد کی کمی ہے تو وہ بھی فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ آپ ہمارے مہمان ہیں، لیکن ان سب کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور ایک خطرناک کوشش کی گئی کہ 9 مئی جیسا واقعہ دہرایا جائے۔ شرجیل… pic.twitter.com/EpfqNSNTOT
— WE News (@WENewsPk) January 13, 2026
مزید پڑھیں: 9 مئی واقعات: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی و دیگر کی موجودگی کی تصدیق
’اس دوران پولیس پر پتھراؤ، میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان اور صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات پیش آئے۔‘
انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بدنظمی پیدا کی گئی، لیکن اس کے باوجود حکومت سندھ نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی رہنما کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
سینیئر وزیر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ الزام لگانا کہ سندھ حکومت نے دورہ روکا، درست نہیں، آپ کو ٹریفک میں روکنے سے سندھ حکومت کو کیا فائدہ ہونا تھا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور سہیل آفریدی کو جو عزت دی گئی، اس کا احترام نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت پیپلزپارٹی کو نشانہ بنا کر دراصل وزیراعظم کو ہدف بنارہی ہے، شرجیل میمن
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کے موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے ان کا استقبال کیا، تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ دورے کے دوران رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔














