وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے پاک افغان بین الاقوامی سرحد کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد کردیا۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سرحد کو بین الاقوامی سرحد ہی سمجھنا چاہیے اور اس کے مطابق عمل بھی کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا پاک افغان بین الاقوامی سرحدکے گمراہ کن بیانیے پرسخت رد عمل@TararAttaullah pic.twitter.com/Rb7znjCtUH
— PTV News (@PTVNewsOfficial) January 13, 2026
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سہیل آفریدی ان چند لوگوں میں سے ہیں جن کو یہ بات فی الحال سمجھ نہیں آ رہی۔
واضح رہے کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں، جس کے باعث دوطرفہ تجارت بند ہے۔
پاکستان نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے، جس پر سیاسی و عسکری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے، اور اس کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے افغانستان اور دہشتگردی کے حوالے سے کیا کہا؟
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جو انہوں نے سندھ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دی۔ اس کلپ میں سہیل آفریدی سے خیبر پختونخوا اور ملک میں دہشتگردی اور افغانستان سے متعلق سوال کیا گیا۔ جس پر پہلے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ تفصیل میں جواب نہیں دیں گے۔
اسی کلپ میں وہ کہتے ہیں کہ سال 2022 میں ان کی جماعت دہشتگردوں کی مبینہ آبادکاری پر کھل کر آواز اٹھا رہی تھی جسے کسی نے نہیں سنا اور اب آپریشن کی بات کی جا رہی ہے۔ وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیگر کئی ممالک کی سرحدیں بھی افغانستان سے ملتی ہیں لیکن وہاں دہشتگردی کا مسئلہ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان ملوث، سہیل آفریدی تاحال لاعلم
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں دہشتگردی افغانستان سے ہوتی ہے یا افغان ملوث ہیں تو اس کے ثبوت سامنے لائے جائیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اس بیان پر وفاقی حکومت نے سخت ردعمل دیا، وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اب ریاست کے خلاف بیانیہ برداشت نہیں کیا جائےگا۔














