مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی میں پاک فضائیہ نے جس طرح سے فیصلہ کن انداز میں بھارتی رافیل طیارے گرائے، بھارتی فضائی دفاعی نظام ایس 400 کو تباہ کیا، بھارتی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، اس چیز نے پاکستان کو عالمی طور پر نہ صرف ایک مضبوط فوجی طاقت کے حامل ملک کے طور پر پیش کیا ہے بلکہ پاکستان کے دفاعی نظام خاص طور پر جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کے لیے دنیا بھر میں دلچسپی بڑھ چکی ہے۔ جس کا ایک عملی مظاہرہ ہم نے گزشتہ برس نومبر میں دبئی ایئر شو کے دوران دیکھا۔
پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کردہ جدید لڑاکا طیارہ جے ایف 17 تھنڈر عالمی دفاعی منڈی میں پاکستان کی سب سے کامیاب دفاعی برآمدات میں شمار ہونے لگا ہے۔ کم لاگت، جیسے اپ گریڈڈ ماڈل کی دستیابی نے متعدد ممالک کو اس بلاک تھری جدید طیارے کی جانب متوجہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر دفاع کا دورہ مراکش: دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
حالیہ برسوں میں کچھ ممالک کے ساتھ معاہدے طے پا چکے ہیں، جبکہ کئی ریاستیں اب بھی مذاکرات یا دلچسپی کے مرحلے میں ہیں۔
بین الاقوامی دفاعی اشاعتوں نے پاکستان کی دفاعی کمپنی پی اے سی اور جے ایف 17 پروگرام کے بارے میں لکھا ہے کہ پاکستان نے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں اپنی دفاعی برآمدات کو بڑھایا ہے، خاص طور پر ذاتی خدمات، تربیت اور تکنیکی مدد کے ساتھ، ان رپورٹس کے مطابق کئی افریقی اور ایشیائی ریاستیں جے ایف 17 کے لچکدار انضمام اور کم قیمت پیکج کی وجہ سے اس میں سنجیدہ دلچسپی رکھتی ہیں۔
پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیارے میں کیا خصوصیات ہیں اور دنیا اِس کی طرف کیوں متوجہ ہے؟
پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیارہ بلاک تھری، ایک 4.5 جنریشن کا طیارہ ہے جو اس جنریشن کے دیگر طیاروں جیسا کہ ٹائفون، رافیل، یوروفائٹر طیاروں سے قیمت سے کہیں سستا اور اِس کی مینٹینینس کاسٹ بھی کم ہے۔
یہ طیارہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس تو نہیں لیکن اس پر ایک ایسی پرت یا کوٹنگ ضرور ہے جو اِسے ریڈار پر دکھائی دینے میں مُشکل بنا سکتی ہے۔ پاکستان کا جے ایف 17 بلاک تھری فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں طرح سے مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ایڈوانسڈ ایوی اونکس کے ساتھ الیکٹرانک وار فیئر اور بیانڈ وژوئل رینج میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ طیارے میں نصب ریڈار اِس کو ایک وقت میں کئی اہداف کا پتا چلانے کی صلاحیت دیتا ہے۔
’وہ ممالک جو جے ایف 17 خرید چکے ہیں یا معاہدے طے پا گئے ہیں‘
آذربائیجان
آذربائیجان وہ ملک ہے جس نے پہلے 2024 میں پاکستان کے ساتھ 16 جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری کا معاہدہ کیا لیکن جون 2025 میں اُس کو بڑھا کر 40 جے ایف 17 بلاک تھری طیاروں کی خریداری کا معاہدہ بنا دیا۔
آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی دفاعی ڈیل کا مجموعی حجم 4.6 ارب ڈالر ہو گیا ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی ڈیل شُمار کی جار ہی ہے ۔
نائجیریا
نائجیریا نے ابتدائی طور پر 3 جے ایف 17 طیارے خریدے، جو اس کی فضائیہ میں فعال طور پر شامل ہیں۔ مستقبل میں مزید طیاروں کی خریداری کے امکانات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔
میانمار
میانمار پاکستانی ساختہ جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو طیارے خریدنے والا پہلا مُلک تھا جس نے 2015 میں 16 طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا جن میں سے 7 ڈیلیور کیے جا چُکے ہیں اور اس کے بعد نائجیریا دوسرا مُلک تھا جس نے یہ طیارے خریدے۔
وہ ممالک جو خریداری میں دلچسپی یا مذاکرات کے مرحلے میں ہیں
بنگلہ دیش
9 جنوری کو پاکستان کے ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیش کے ایئر چیف حسن محمود خان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے تناظر میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔
بنگلہ دیش اپنی فضائیہ کے پرانے فلیٹ کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ وہ پاکستان سے نہ صرف جے ایف 17 بلکہ سُپر مشاق طیاروں کی خریداری میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔
انڈونیشیا
گزشتہ روز انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ انڈونیشیا پاکستان سے 40 جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور شہپر ڈرونز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کررہا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی فوج انڈونیشیا کے افسران کے لیے تربیتی پروگرام، فضائی دفاعی نظام اور انجینیئرنگ اسٹاف کی تربیت کے مواقع بھی فراہم کرنے پر غور کررہی ہے۔
انڈونیشیا اپنے پرانے طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے متعدد بین الاقوامی معاہدے کررہا ہے۔
عراق
10جنوری کو ایئر چیف ظہیر احمد بابر سدھو کے دورہ عراق کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ موہناد غالب محمد رادی الاسدی نے پاکستان فضائیہ کی مئی کے تنازعے کے دوران پیشہ ورانہ کارکردگی کی تعریف کی اور جنگ آزمودہ جے ایف 17 طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
آئی ایس پی آر سے جاری کردہ بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل الاسدی نے پی اے ایف کے جے تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور پی اے ایف کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اُٹھانے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
ایران
ایرانی حکام کی جانب سے بھی جے ایف 17 میں دلچسپی کے اشارے ملے ہیں، مگر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث کسی ممکنہ تعداد یا معاہدے پر کھل کر بات نہیں کی جا رہی۔
لیبیا
لیبیا کے مشرقی حصے کے طاقتور کمانڈر خلیفہ حفتر سے منسلک انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ قریباً 4 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس میں جے ایف 17 طیارے، تربیت اور دیگر عسکری سازوسامان شامل ہو سکتا ہے۔
جے ایف 17 ایک برآمدی اثاثہ
جے ایف 17 تھنڈر پاکستان کے لیے نہ صرف ایک جنگی طیارہ بلکہ اسٹریٹجک برآمدی اثاثہ بن چکا ہے۔ بلاک تھری میں جدید اے ای ایس اے ریڈار، بہتر ایویونکس اور جدید ہتھیاروں کی شمولیت نے اس طیارے کو اُن ممالک کے لیے پرکشش بنا دیا ہے جو مہنگے مغربی لڑاکا طیارے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔
مزید پڑھیں: سربراہ پاک فضائیہ کی عراقی ایئر چیف سے ملاقات، مشترکہ تربیت اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اگر موجودہ مذاکرات میں سے چند بھی حتمی معاہدوں میں بدل جاتے ہیں تو جے ایف 17 پاکستان کی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔













