جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اب تک 100 سے زائد فلسطینی بچے شہید ہوچکے، اقوام متحدہ

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں نافذ جنگ بندی کے باوجود گزشتہ 3 ماہ کے دوران اسرائیلی حملوں میں 100 سے زائد فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے سال کے آغاز پر استنبول میں ہزاروں افراد کا غزہ کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق اکتوبر کے آغاز سے اب تک غزہ میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئیں۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس وقت غزہ سٹی سے رپورٹ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اب تک 100 سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں یعنی جنگ بندی کے دوران بھی تقریباً روزانہ ایک بچہ ہلاک ہو رہا ہے۔

جنگ بندی میں روز ایک بچہ دفن ہو رہا ہے

جیمز ایلڈر کے مطابق بچوں کی ہلاکتیں اسرائیلی فضائی حملوں، ڈرون حملوں بشمول خودکش ڈرونز، ٹینکوں کی گولہ باری اور براہ راست فائرنگ کے باعث ہوئیں جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: غزہ: غذا جانوروں کا چارہ، بچے مرنے کے لیے باری کے منتظر

ان کا کہنا تھا کہ ایسی جنگ بندی جو بمباری کی رفتار کم کرے پیشرفت تو ہے مگر وہ جنگ بندی جو بچوں کو دفن کرتی رہے کافی نہیں۔

مقامی حکام کے مطابق شہادتیں زیادہ

دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک عہدیدار نے بچوں کی شہادتوں کی اس سے بھی زیادہ تعداد بتائی ہے۔

وزارت کے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ظاہر الواحدی کے مطابق جنگ بندی کے دوران 442 مجموعی شہادتوں میں سے 165 بچے شامل ہیں۔

سردی کی شدت سے بچوں کی اموات

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک سردی کی شدت کے باعث بھی 7 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’او وی خوب دیہاڑے سَن‘، خوشیاں لانے والی سردیاں اور بارشیں اب غزہ والوں کے دل کیوں دہلا دیتی ہیں؟

یونیسیف کے ترجمان نے کہا کہ 2 سال سے زائد جاری جنگ کے باعث غزہ کے بچے ناقابل تصور مشکلات کا شکار ہیں جہاں خوف عام ہے اور ذہنی صدمے کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نفسیاتی زخم بدستور علاج کے بغیر ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ مزید گہرے اور ناقابل علاج ہوتے جا رہے ہیں۔

تباہی اور امداد کی پابندیاں

غزہ کے حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں اب تک 71 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔

یکم جنوری کو اسرائیل نے 37 بین الاقوامی امدادی اداروں کو غزہ میں داخلے سے روک دیا تھا جسے اقوام متحدہ نے اس وقت انتہائی قابل مذمت قرار دیا تھا۔

یونیسیف کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو روکنے کا مطلب زندگی بچانے والی امداد کو روکنا ہے۔ اگرچہ یونیسیف نے اکتوبر کے بعد امداد میں اضافہ کیا ہے مگر یہ اب بھی ضروریات سے کہیں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ امدادی اداروں اور غیر ملکی صحافیوں پر پابندیاں بچوں کی تکالیف کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کے خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔

طوفانی بارشوں سے مزید تباہی

ادھر غزہ میں شدید بارشوں اور طوفان کے باعث سینکڑوں خیمے زیرِ آب آ گئے اور بے گھر خاندانوں کی پناہ گاہیں منہدم ہو گئیں جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد شہید ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ: بچے خاندان کے مرحومین کے پاس جانے کی ضد کیوں کرنے لگے؟

طبی حکام کے مطابق غزہ سٹی کے ساحلی علاقے میں گھروں کے گرنے سے 2 خواتین اور ایک بچی سمیت 5 افراد شہید ہوئے جبکہ وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں ایک سالہ بچہ شدید سردی کے باعث خیمے میں دم توڑ گیا۔

سیاسی پیشرفت

دوسری جانب حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں تمام سرکاری اداروں کو مجوزہ آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کو انتظامی اختیارات منتقل کرنے کی تیاری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ: بچوں کی ڈاکٹر نے 9 بچے کھو دیے، شوہر و آخری بچہ موت کی دہلیز پر

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے پیس کونسل کے قیام کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے اور یہ فیصلے شرم الشیخ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں اسٹروک مینجمنٹ پروگرام، فالج کے مریضوں کے لیے نئی زندگی کی نوید

سرمد کھوسٹ کی فلم ’لالی‘ ، پاکستان کی پہلی مکمل فیچر فلم نے عالمی سینما میں دھوم مچا دی

بنگلہ دیش نے بھارتی اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

ایپسٹین کے مشیروں کیخلاف مقدمہ تصفیے پر منتج، ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کی ادائیگی پر آمادگی

مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتیں مسلسل احساسِ محرومی اور امتیازی سلوک کا شکار

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب