ملتان میں ایک معذور میاں بیوی نے ہمت، حوصلے اور خود اعتمادی کی ایسی مثال قائم کر دی جو معاشرے کے لیے مشعل راہ بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریڑھی بان فوزیہ کوثر عزم و ہمت کی مثال
پولیو کے باعث بچپن سے معذوری کا شکار عدنان نثار اور ان کی اہلیہ حنا عدنان نے مشکلات کے سامنے ہار ماننے کی بجائے اپنی معذوری کو طاقت میں بدلتے ہوئے باعزت روزگار کا راستہ اختیار کیا۔
عدنان نثار پہلے سوئی گیس کے محکمے میں ملازمت کرتے تھے تاہم ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد گھر کے حالات سخت دباؤ کا شکار ہو گئے۔
روزگار کے ختم ہونے سے نہ صرف مالی مشکلات بڑھیں بلکہ مستقبل کے حوالے سے خدشات بھی جنم لینے لگے۔ ایسے نازک وقت میں دونوں میاں بیوی نے مایوسی کی بجائے خود پر یقین رکھا اور اپنا کاروبار شروع کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔
عدنان کی اہلیہ حنا عدنان، جو خود بھی معذور ہیں اور ایک گھریلو خاتون تھیں، اس جدوجہد میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئیں۔
مزید پڑھیے: ہمت اور محنت کی مثال: پشاور کی خاتون کا کامیاب آن لائن شہد بزنس
حنا نے پہلی بار گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ خاندان کو باعزت طریقے سے سہارا دیا جا سکے۔ دونوں میاں بیوی نے ملتان کے تحصیل چوک کے قریب ایک نجی شاپنگ مال کے سامنے ’اپنا روزگار‘ کے نام سے ایک اسٹال لگایا جسے اب 2 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔
اس اسٹال پر نہ صرف سوپ اور چکن منچورین رائس دستیاب ہیں بلکہ گرمیوں کے موسم میں یہاں مختلف اقسام کے تازہ جوسز بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔
ذائقے اور صفائی کے باعث لوگ دور دراز علاقوں سے یہاں کھانے کے لیے آتے ہیں اور اس بات نے اس اسٹال کو علاقے میں ایک پہچان بنا دیا ہے۔
حنا عدنان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب عدنان نوکری کرتے تھے تو بڑی مشکل سے گھر کا خرچہ پورا ہوتا تھا مگر اب ہم نہ صرف اپنی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر رہے ہیں بلکہ عزت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ کی سماعت سے محروم ڈاکٹر مہوش شریف، عزم و ہمت کی شاندار مثال
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے 2 بچے زیرِ تعلیم ہیں اور باقاعدگی سے اسکول جاتے ہیں جو ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کاروبار کے آغاز میں ایک معذور افراد کی فلاحی این جی او نے عدنان اور حنا کا ساتھ دیا جس نے انہیں اسٹال اور ضروری سامان فراہم کیا۔ اس تعاون اور اپنی انتھک محنت کے باعث آج یہ معذور جوڑا خود کفالت کی مثال بن چکا ہے۔
عدنان اور حنا نہ صرف اپنے خاندان کا سہارا بنے ہوئے ہیں بلکہ وہ معاشرے کے دیگر معذور افراد کو بھی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ معذوری کمزوری نہیں بلکہ ہمت اور حوصلے سے زندگی بدلی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مہندی کے رنگوں سے مستقبل سنوارنے والی باہمت لڑکی کی کہانی
دونوں میاں بیوی کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں باعزت روزگار اور خودداری کے ساتھ جیا جا سکتا ہے۔
یہ میاں بیوی آج ملتان میں حوصلے، خود اعتمادی اور محنت کی زندہ مثال بن چکے ہیں۔













