جنگ بندی کے باوجود غزہ میں 100 سے زائد بچے ہلاک، اقوامِ متحدہ

بدھ 14 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

3 ماہ قبل نافذ ہونے والی ایک کمزور جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق، اکتوبر کے اوائل سے اسرائیلی قبضے میں موجود فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی پر میامی میں مذاکرات، حماس کا اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ

یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے غزہ سٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی تقریباً ہر روز ایک بچہ یا بچی جان سے جا رہی ہے۔

ایلڈر کے مطابق غزہ میں بچے خودکش ڈرون حملوں سمیت فضائی حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری، براہِ راست فائرنگ اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے ہلاک کیے جا رہے ہیں۔

’ہم 100 کے ہندسے پر پہنچ چکے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، بلکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘

مزید پڑھیں: جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے غزہ امن معاہدے کو سنگین خطرہ ہے، قطر نے خبردار کردیا

ان کا کہنا تھا کہ ایسی جنگ بندی جو بمباری کی رفتار تو کم کرے مگر بچوں کو ملبے تلے دفن کرتی رہے، وہ کافی نہیں ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق، اس کمزور جنگ بندی کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 165 ہے، جبکہ مجموعی ہلاکتیں 442 تک پہنچ چکی ہیں۔

وزارتِ صحت کےمطابق ان تمام ہلاکتوں کے علاوہ رواں سال کے آغاز سے اب تک سردی کی شدت کے باعث 7 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

جیمز ایلڈر نے زور دیا کہ یہ حملے 2 سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد ہو رہے ہیں، جس نے غزہ کے بچوں کی زندگی کو ناقابلِ تصور حد تک مشکل بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں شہدا کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی، جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری

’بچے آج بھی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نفسیاتی صدمے کا علاج نہیں ہو سکا اور جتنا یہ سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی یہ زخم گہرا اور ناقابلِ علاج بنتا جا رہا ہے۔‘

گزشتہ برس نومبر میں غزہ کی مقامی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیلی جنگ کے بعد سے اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے خطرناک ارادے، دفاع کے لیے 35 ارب ڈالر مختص کردیے

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، مسلسل فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔

یکم جنوری کو اسرائیل نے 37 بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو غزہ میں داخلے سے روک دیا، جسے اقوامِ متحدہ نے اس وقت ’انتہائی اشتعال انگیز‘ اقدام قرار دیا تھا۔

جیمز ایلڈر کے مطابق بین الاقوامی این جی اوز اور انسانی امداد کو روکنا دراصل زندگی بچانے والی مدد کو روکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یونیسیف اکتوبر کے بعد سے غزہ میں امداد کی مقدار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم زمینی سطح پر شراکت داروں کی ضرورت ہے، اور موجودہ امداد اب بھی ضرورت پوری نہیں کر پا رہی۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی نگرانی: اسرائیل نے ترک فوجیوں کی تعیناتی مسترد کردی

’جب اہم امدادی تنظیموں کو انسانی امداد پہنچانے اور حقائق دنیا کے سامنے لانے سے روکا جائے، اور غیر ملکی صحافیوں پر پابندی ہو، تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا مقصد بچوں کی تکالیف کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا تو نہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘