ملائیشیا کے وزیرِاعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت غزہ کے لیے روانہ ہونے والے عالمی انسانی امدادی مشن گلوبل صمود فلوٹیلا 2.0 میں براہِ راست شرکت کرے گی۔
انور ابراہیم نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری اپنے بیان میں کہی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے اطالوی رکن نے اسلام قبول کرلیا
انہوں نے کہا کہ یہ مشن 80 سے زائد ممالک کی شمولیت سے منعقد کیا جا رہا ہے اور ملائیشیا کی براہِ راست شرکت فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع اور انسانی انصاف کے قیام کے لیے عالمی اخلاقی جدوجہد کا تسلسل ہے۔
وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ سرحد، نسل یا مذہب سے بالاتر ہو کر انسانی حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
PM @anwaribrahim : Malaysia sokong Pasukan Penstabilan Antarabangsa (ISF) di Gaza.#MalaysiaMADANI #KEADILAN pic.twitter.com/RlrAXnh4oB
— KEADILAN (@KEADILAN) January 9, 2026
یہ بیان صمود نوسانتارا کمانڈ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل ثانی عربی اور تنظیم کے بانی نادر النوری سے انور ابراہیم کی ملاقات کے دوران سامنے آیا۔
وزیرِاعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملائیشیا فلسطینی عوام کی مدد اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
’۔۔۔کیونکہ ایک باوقار اور آزاد فلسطین کے قیام کے لیے انصاف میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی۔‘
مزید پڑھیں: اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کے قیدیوں کے ساتھ سلوک کیسا ہے؟ سویڈش کارکن نے پردہ فاش کردیا
واضح رہے کہ ماضی میں اسرائیل نے غزہ جانے والے کئی امدادی بحری جہازوں پر حملے کیے، ان کا سامان ضبط کیا اور جہازوں پر موجود کارکنوں کو ملک بدر کر دیا۔
گزشتہ اکتوبر میں اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے لیے روانہ ہونے والی عالمی صمود فلوٹیلا کے 40 سے زائد کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قبضے میں لے لیا تھا، جبکہ 450 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
متعدد کارکنوں نے اسرائیلی تحویل میں بدسلوکی اور تشدد کی ہولناک داستانیں بیان کیں۔
Menerima kunjungan Ketua Pengarah Sumud Nusantara Command Center (SNCC), Dato’ Sani Araby yang juga Ketua Aktivis Kemanusiaan MAPIM, bersama Saudara Nadir Al-Nuri, Pengasas Sumud Nusantara di Perdana Putra petang tadi.
Saya dimaklumkan mengenai situasi kemanusiaan di Gaza yang… pic.twitter.com/SSNZwTH2Tl
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) January 13, 2026
اسرائیل گزشتہ تقریباً 18 برس سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کیے ہوئے ہے، جہاں تقریباً 24 لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں۔
مارچ میں اسرائیل نے سرحدی گزرگاہیں بند کر کے خوراک اور ادویات کی ترسیل روک دی، جس کے باعث غزہ کو شدید قحط کا سامنا کرنا پڑا۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت 8 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی جو 2 برس تک جاری رہی، جس کے دوران 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ غزہ مکمل طور پر کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا۔














