لاہور اور بہاولپور سے کم سن بچیوں اور ان کی والدہ کے اغوا سے متعلق کیس میں سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول، شہری وقاص احمد اور سہیل علیم کے درمیان لین دین کے تنازع پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تھانہ ترنول میں وقاص احمد اور سہیل علیم کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے سے متعلق سنگل بینچ کے احکامات معطل کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کی تعیناتی کے لیے عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا
عدالت نے مقدمے کے تفتیشی افسر پر عائد ایک لاکھ روپے جرمانے کا حکم بھی معطل کر دیا۔
اس کے علاوہ بغیر وارنٹ لاہور میں چھاپہ مارنے والی ٹیم میں شامل تمام پولیس اہلکاروں پر فی کس ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے اور آئی جی اسلام آباد کو ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے سے متعلق سنگل بنچ کے احکامات بھی معطل کر دیے گئے۔
سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کی جانب سے ڈائریکٹر لیگل طاہر کاظم اور ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وقاص احمد اور ان کی اہلیہ کے خلاف تھانہ ترنول میں مقدمہ نمبر 658/25 درج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی، سہیل آفریدی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط
مقدمے کے مطابق اسلام آباد پولیس وقاص احمد کی اہلیہ اور 3 کم سن بچیوں کو لاہور سے بغیر وارنٹ حراست میں لے کر اسلام آباد منتقل کرںے آئی تھی۔
اس معاملے پر جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل سنگل بنچ نے پہلے فیصلہ سنایا تھا، جسے اب ڈویژن بنچ نے معطل کر دیا ہے۔
ڈویژن بنچ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ کیس کی مزید سماعت بعد میں کی جائے گی۔














