بلاک چین محض ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اعتماد، شفافیت اور رفتار پر مبنی ایک نیا معاشی و انتظامی فلسفہ ہے، جو مستقبل کی شاہراہ بننے کی پوری اہلیت رکھتا ہے، بلاک چین ایک غیر مرکزی (Decentralized) اور ناقابلِ تبدیلی (Immutable) ڈیجیٹل کھاتہ ہے، جس میں لین دین کو محفوظ انداز میں متعدد کمپیوٹروں پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
اس نظام میں ہر ٹرانزیکشن کرپٹوگرافی کے ذریعے وقت کی ترتیب سے جڑے ہوئے بلاکس میں محفوظ ہوتی ہے، جس کے بعد اس میں رد و بدل تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، یہی خصوصیت بلاک چین کو روایتی نظام سے ممتاز بناتی ہے جہاں ریکارڈ ایک مرکزی ادارے کے پاس ہوتا ہے اور انسانی مداخلت کرپشن اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔
پاکستانی معیشت اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے ان میں عدم شفافیت، کمزور دستاویزی نظام، ٹیکس چوری اور ادارہ جاتی بداعتمادی سرفہرست ہیں۔ ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا، سرکاری خریداری میں بے ضابطگیاں اور سبسڈی یا امدادی پروگراموں میں شکایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارا موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔
ایسے میں بلاک چین ٹیکنالوجی ایک مؤثر حل کے طور پر سامنے آئی ہے، اگر ٹیکس نظام، سرکاری ٹھیکے، زمینوں کے ریکارڈ اور فلاحی پروگرام بلاک چین پر منتقل کر دیے جائیں تو ہر لین دین شفاف ہو جائے گا، بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار یعنی SMEs ہیں مگر یہی شعبہ سرمایہ، بینکنگ سہولتوں اور عالمی منڈی تک رسائی کے شدید مسائل کا شکار ہے بلاک چین کے ذریعے اسمارٹ کنٹریکٹس، ڈیجیٹل شناخت اور غیر روایتی فنانسنگ کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
اسمارٹ کنٹریکٹس کی بدولت کاروباری معاہدے خودکار، محفوظ اور شفاف ہو سکتے ہیں، جن میں کسی تیسرے فریق پر انحصار کم ہو جاتا ہے، یوں پاکستانی ایس ایم ایز براہِ راست عالمی خریداروں سے جُڑ سکتے ہیں، جو ملکی برآمدات اور روزگار میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے بھی بلاک چین غیر معمولی مواقع فراہم کرتی ہے، فری لانسنگ، آئی ٹی ایکسپورٹس اور ڈیجیٹل سروسز میں بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارمز ادائیگیوں کو تیز، محفوظ اور کم لاگت بنا سکتے ہیں۔
ترسیلات زر کا شعبہ بھی اس ٹیکنالوجی سے نمایاں فائدہ اٹھا سکتا ہے، جہاں چند منٹوں میں کم خرچ پر رقوم کی منتقلی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ریاست بروقت پالیسی سازی کرے اور غیر ضروری خوف یا ابہام کا شکار ہونے کے بجائے ٹیکنالوجی کو سمجھ کر آگے بڑھے، جیسا کہ اس وقت موجودہ حکومت اس پر کام کا آغاز کر چکی ہے اور مزید غور و خوص جاری ہے اس حوالے سے پاکستان کرپٹو کونسل کا قیام ایک مثبت اقدام ہے۔
بینکنگ اور مالیاتی نظم و نسق کے حوالے سے بلاک چین کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، روایتی بینکنگ نظام میں تاخیر، زیادہ فیس اور انسانی مداخلت نہ صرف اخراجات بڑھاتی ہے، بلکہ کرپشن کے خدشات موجود رہتے ہیں، بلاک چین پر مبنی نظام میں لین دین براہِ راست، تیز اور شفاف ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) اور بلاک چین بینکنگ ماڈلز پر کام ہو رہا ہے، اگر پاکستان بھی اس سمت میں سنجیدہ قدم اٹھاتا ہے تو منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس اور مالی بے ضابطگیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ تاثر بھی درست نہیں کہ بلاک چین صرف کرپٹو کرنسی تک محدود ہے، بلکہ زمینوں کے ریکارڈ، تعلیمی اسناد کی تصدیق، ووٹنگ سسٹم میں شفافیت، صحت کے ریکارڈ، سپلائی چین مینجمنٹ اور حتیٰ کہ صحافت میں ڈیٹا کی تصدیق کے لیے بھی بلاک چین ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
کسی خبر یا دستاویز کو بلاک چین پر محفوظ کرنے سے اس کی صداقت اور اصل ہونے کا ثبوت فراہم کیا جا سکتا ہے، جو فیک نیوز کے دور میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
بلاک چین کوئی جادو کی چھڑی نہیں جو تمام مسائل کو ایک دم حل کر دے، لیکن یہ اعتماد، شفافیت اور رفتار کی وہ مضبوط بنیاد ضرور فراہم کر سکتی ہے، جس کے بغیر جدید ڈیجیٹل معیشت کا تصور ممکن نہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ بلاک چین آئے گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اسے خوف، افواہوں اور تاخیر کی نذر کرتے ہیں یا سمجھداری سے اپنا کر مستقبل کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہیں۔
فیصلہ اگر بروقت اور دانشمندانہ ہوا تو بلاک چین پاکستان کے لیے محض ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ ایک نیا معاشی موقع ثابت ہو سکتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














