پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 13 جنوری کو اڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے واقعات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومتی جبر، پولیس کارروائیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کارکنان آئینی و قانونی حق کے تحت جیل کے باہر موجود تھے، تاہم پولیس نے اس پُرامن سرگرمی کو روکنے کے لیے طاقت اور تشدد کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، علیمہ خان کا اڈیالہ جیل کے باہر دعاؤں کے اہتمام کا اعلان
پارٹی کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں 11 مرد کارکنان کو تھانہ روات میں حراست میں لیا گیا، جبکہ 3 خواتین زلیخہ، ڈاکٹر اسماء اور ثنایہ سفیر کو راولپنڈی پولیس نے تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ اسی طرح ایڈووکیٹ راجہ یاسر، شاہد خٹک کے بھائی عادل اور تنویر کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کو آئین اور جیل قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل سے واپسی پر بحریہ ٹاؤن کے مقام پر پولیس ناکہ لگایا گیا جہاں شہریوں سے موبائل فون چھینے گئے، خواتین کی گاڑیوں کو تحویل میں لیا گیا اور متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے باہر ڈراما لگاتی ہے، باز نہ آنے پر حل نکالنا ہوگا، رانا ثنااللہ
پارٹی کے مطابق بعض شہریوں سے رقم لے کر موبائل اور گاڑیاں واپس کی گئیں، جبکہ انکار کرنے والوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، جو تاحال بحریہ چوکی پر کھڑی ہیں اور اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام گرفتار مرد و خواتین کو فوری رہا کیا جائے، عمران خان کے اہلِ خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جائے، ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، ضبط کی گئی گاڑیاں اور موبائل واپس کیے جائیں اور ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی ان معاملات پر ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔














