ناسا کا خلائی جہاز وویجر 1 جو 50 برس پہلے اپنے سفر پر روانہ ہوا تھا اب ایک اہم سنگ میل تک پہنچنے کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا تاریخ میں پہلی بار خلا باز کو طبی وجوہات کے باعث آئی ایس ایس سے واپس لانے کا اعلان
رپورٹس کے مطابق یہ خلائی جہاز تاریخ میں پہلا ہوگا جو زمین سے ایک لائٹ ڈے (تقریباً 16 ارب میل) کے فاصلے تک پہنچے گا اور یہ کارنامہ نومبر 2026 تک متوقع ہے۔
وویجر میسج کا جواب کتنی دیر میں دے گا؟
اس فاصلے پر زمین سے بھیجا گیا کوئی بھی کمانڈ یا میسج وویجر 1 تک پہنچنے میں 12 گھنٹے لے گا اور جواب واپس آنے میں بھی اتنا ہی وقت لگے گا۔
وویجر پروجیکٹ مینیجر سوزی ڈوڈ کا کہنا ہے کہ اگر میں صبح 8 بجے کوئی کمانڈ بھیجوں اور کہوں، ‘گڈ مارننگ، وویجر 1’، تو وویجر 1 کا جواب بدھ کی صبح تقریباً 8 بجے ملے گا۔
خلا میں رابطے کے لیے وویجر 1 ڈیٹا 160 بٹس (20 بائٹس) فی سیکنڈ کی رفتار سے بھیجتا ہے جو کہ عام ڈائل اپ انٹرنیٹ کی رفتار کے برابر ہے۔
سوزی نے کہا کہ زمین سے اتنے فاصلے کے سبب سگنلز پہنچنے میں زیادہ وقت لیتے ہیں اور ان کی طاقت راستے میں کم ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: سال 2025 میں بیرونی سیاروں کی کھوج اور ناسا کے دیگر کارنامے
انہوں نے مزید کہا کہ اس سگنل کو جمع کرنے کے لیے اینٹیا کے کئی گروپس استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ سست رفتار ڈیٹا ٹرانسمیشن ٹیم کو صرف محدود معلومات فراہم کرتی ہے اور فوری مسائل کا حل ممکن نہیں ہوتا۔
تاہم وویجر دونوں جہاز خود اپنی حفاظت کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ خود کو سیف موڈ میں ڈال سکتے ہیں اور انتظار کر سکتے ہیں جب تک ہم دوبارہ رابطہ کر کے مسئلہ حل نہ کریں۔
چند دہائیوں سے ٹیم نے ان جہازوں کی عمر بڑھانے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں جیسے کہ انجنئرنگ سسٹمز اور آلات بند کرنا تاکہ توانائی بچائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: مریخ مشن: ناسا کے خلائی جہاز نے چپ سادھ لی، وجہ سمجھ سے باہر
اہم بات یہ ہے کہ یہ مشن سنہ 1970 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا تھا جب زحل، نیپچون، مشتری اور یورینس ایسے سیدھے ہو گئے تھے جو صرف ہر 175 سال میں ایک بار ہوتے ہیں۔














