امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے تمام اقسام کی ویزا پراسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،حکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ اقدام جلد نافذ کیا جا رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
ویزا پراسیسنگ کی یہ معطلی 21 جنوری سے شروع ہوگی، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بھی اس حوالے سے رپورٹ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جن ممالک کے شہری اس فیصلے سے متاثر ہوں گے،ان میں صومالیہ، روس، ایران، افغانستان، برازیل، نائیجریا ، تھائی لینڈ، افغانستان ، روس ، ایران، عراق،اردن ، قازقستان، کویت، کرغزستان، لبنان، لیبیا، نیپال، کانگو، روانڈا، سوڈان ، شام، تنزانیہ اور ازبکستان اور دیگر کئی ممالک شامل ہیں۔
The State Department will pause immigrant visa processing from 75 countries whose migrants take welfare from the American people at unacceptable rates. The freeze will remain active until the U.S. can ensure that new immigrants will not extract wealth from the American people.
— Department of State (@StateDept) January 14, 2026
محکمہ خارجہ کی اندرونی ہدایت کے تحت امریکی سفارت خانوں کو موجودہ قوانین کے تحت ویزے جاری کرنے سے انکار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ویزا پالیسی اور طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے لیے کسی واضح مدت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد اختیار کی گئی سخت امیگریشن پالیسیوں کے تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا مسترد ہونے پر خاتون ڈاکٹر نے خودکشی کرلی
گزشتہ نومبر میں صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد، جس میں نیشنل گارڈ کا ایک رکن ہلاک ہوا تھا، تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق ویزا پالیسی میں یہ تبدیلیاں قومی سلامتی اور امیگریشن نظام کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔














