امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جاری جنگ بندی سے متعلق تیار کردہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ منصوبہ اب محض جنگ بندی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا اگلا مرحلہ ڈی ملٹرائزیشن، عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام اور تعمیرِ نو کے عمل پر مشتمل ہے۔
Today, on behalf of President Trump, we are announcing the launch of Phase Two of the President’s 20-Point Plan to End the Gaza Conflict, moving from ceasefire to demilitarization, technocratic governance, and reconstruction.
Phase Two establishes a transitional technocratic…
— Special Envoy Steve Witkoff (@SEPeaceMissions) January 14, 2026
اسٹیو وِٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے میں غزہ کے انتظام کے لیے ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی، جس کے تحت علاقے کو مکمل طور پر غیر فوجی بنایا جائے گا اور تعمیرِ نو کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
انہوں نے واضح کیاکہ اس مرحلے کا مقصد غزہ میں غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کرنا ہے۔
امریکی ایلچی نے کہا ہ امریکا کو توقع ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گی، جن میں آخری ہلاک شدہ یرغمالی کی لاش کی فوری واپسی بھی شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
اسٹیو وِٹکوف نے کہاکہ آج صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ اعلان کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مرحلے کے تحت ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی جسے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے۔
اسٹیو وِٹکوف نے کہاکہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران غیر معمولی انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی کو برقرار رکھا گیا، تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا جبکہ 28 میں سے 27 ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس لائی گئیں۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی پر میامی میں مذاکرات، حماس کا اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ
انہوں نے اس پیشرفت میں مصر، ترکیہ اور قطر کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ان کی ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اس کی قریباً 1200 مرتبہ خلاف ورزی کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔














