امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بس چلے تو ساری دنیا کے کیمرے اپنی ذات پر فوکس کروا لیں اور کل عالم کو اپنا سامع و ناظر بنا لیں۔ اب یہ تو ان کے بس میں ہے نہیں، سو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اوٹ پٹانگ بیانات سے خود کو پوری دنیا میں زیر بحث رکھیں۔
ان کے اس طرح کے بیانات نے ہمیشہ بحث اور تنازع کو جنم دیا ہے لیکن حالیہ دنوں میں وینزویلا اور گرین لینڈ کے تناظر میں ان کے ایسے بیانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں جو دنیا بھر میں حیرت سے سنے اور دیکھے گئے۔
ان کے اس نوع کے بیانات کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ اب اپنے آپ کو کسی بھی قانونی یا آئینی دائرے سے بالاتر قرار دینے لگے ہیں اور اپنی ذاتی اخلاقیات کو ہی اختیار کا واحد معیار قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا اور لیٹ اسٹیج ایمپائر بہیویئر
صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی قانون امریکا کے اقدامات کو محدود نہیں کرتا اور یہ کہ ان کے فیصلوں میں صرف ان کی ذاتی اخلاقیات ہی حد مقرر کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ موقف کھلے لفظوں میں ہی اختیار نہیں کیا بلکہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد انہوں کئی طرح کے ایسے دعوے کیے جو درحقیقت انٹرنیشنل لا ہی نہیں بلکہ امریکی آئین سے بھی متصادم ہیں۔ مثلا یہ کہ امریکا وینزویلا کے وسائل اور سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے اور یہ سب امریکی مفاد میں جائز ہے۔
یہ مؤقف عالمی قوانین، خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے متصادم ہے، جو کہ ریاستوں کی خودمختاری اور طاقت کے استعمال کی واضح حد بندی کرتا ہے۔ اس کےتحت کسی بھی ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسرے ملک کی سرزمین پر بلا اجازت فوجی کارروائی کرے یا وسائل پر کنٹرول حاصل کرے۔ ٹرمپ کے بیانات اس فلسفے کو یکسر نظرانداز کرتے ہیں، جو عالمی قانون کو مذاق سمجھنے کے مترادف ہیں۔
اسی روانی میں ٹرمپ نے گرین لینڈ کو ’ملکیت‘ میں لینے کے حوالے سے بھی متنازع بیانات دیے ہیں، اور کہا کہ یہ ان کے لیے ’نفسیاتی طور پر اہم‘ ہے۔ اس قسم کے بیانات بھی بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کا مذاق ہیں، کیونکہ کسی ریاست کی خودمختاری اور ملکیت کے اصول کو نظرانداز کرنا، اور دوسرے ملک کو اپنی ذاتی دلچسپی کے تابع قرار دینا، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ سوال یہ کہ کیا اب ممالک پر کسی فرد واحد کی نفسیاتی تسکین کے لئے بھی قبضے ہوں گے؟ مگر اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ذہنی طور پر اس دور میں لوٹ چکا جب بادشاہ سلامت کے جذبات کی تسکین ہی سب کچھ ہوا کرتی تھی؟
یہ سوال یوں اہم ہوجاتا ہے کہ مسئلہ صرف بین الاقوامی قوانین کا ہی نہیں بلکہ امریکی آئین کا بھی ہے۔امریکی آئین کے تحت جنگ، بڑی فوجی کارروائی، یا کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے اختیارات بنیادی طور پر کانگریس کے پاس ہیں۔ صدر کا کام صرف ان اختیارات کے نفاذ اور انتظام کی قیادت کرنا ہے، نہ کہ یہ اختیارات خود ہی حاصل کر لینا۔ ٹرمپ نے وینزویلا کے معاملے کے بعد واضح طور پر کہا کہ وہ کانگریس سے اجازت کے بغیر ہی فیصلے کرنے میں مکمل آزاد ہیں۔ یہ رویہ امریکی آئین کی روح کے خلاف ہے، کیونکہ آئین کا بنیادی فلسفہ ’اختیارات کی تقسیم‘ پر استوار ہے، جس میں کانگریس، صدر، اور عدلیہ کے درمیان طاقت کا توازن ضروری ہے۔ صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنی صوابدید کے مطابق نظرانداز کرے۔
مزید پڑھیے: اسلامی ریاست اور خوارج
امریکی صدر آئین کے تحت کمانڈر انچیف ضرور ہے، مگر اس کا مقصد فوجی طاقت کا انتظام ہے، نہ کہ قانون سازی یا خود قانون کی تعمیل کو نظرانداز کرنا۔ ٹرمپ کے ’مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں، میری ذاتی اخلاقیات ہی حد ہیں‘ جیسے بیانات آئین کے اس اصول سے متصادم ہیں کہ صدر قانون کی حدود میں رہ کر چلے گا۔
خود امریکا کے آئینی ماہرین کہہ رہے کہ ٹرمپ کے اس حالیہ رویے نے ’صدارتی بادشاہت‘ کے تصور کو عملی شکل دی ہے، جس میں صدر اپنی ذاتی طاقت کو آئینی اور قانونی دائرے سے بالاتر قرار دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ٹرمپ کا چلن روایتی ایگزیکٹو اوور ریچ سے مختلف ہے، کیونکہ ماضی میں امریکی صدور نے اپنی طاقت میں اضافہ کیا لیکن کبھی یہ واضح نہیں کہا کہ قانون یا آئین ان پر لاگو نہیں ہوتا یا یہ کہ وہ ذاتی اخلاقیات کے پابند ہیں۔
ماضی میں کئی امریکی صدور نے قانون یا آئین کی حدود کو محدود یا کھینچا، لیکن انہوں نے ہمیشہ قانونی اور آئینی جواز کا سہارا لیا اور اگر پھر بھی بات نہ بنی تو گھر جانا پڑا۔ مثلا نکسن نے ویتنام میں غیر قانونی کارروائیاں کیں، جس پر انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ چھوٹے بش نے عراق پر ناجائز حملہ کیا مگر اس کے لئے اقوام متحدہ کا سہارا لیا۔ اوباما نے ڈرون حملوں کے لیے قانون کی فریم ورک تیار کیا۔ دنیا ان ڈرون حملوں کو آج بھی تنقید کا نشانہ بناتی ہے اور ان کا دفاع کوئی نہیں کرپاتا، مگر قابل غور بات یہ ہے کہ اوباما نے قانون کا سہارا لیا، اسے اپنی ذاتی اخلاقیات سے نہیں جوڑا۔
ٹرمپ کا فرق یہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف قانون توڑنے کو درست قرار دیا بلکہ بین الاقوامی اور آئینی قوانین کی حیثیت ہی ختم کرنے کی بات کی۔ امریکی سیاسی ماہرین کے مطابق اس سے امریکی جمہوریت میں پہلی بار یہ خطرہ پیدا ہوا ہے کہ صدر اپنی صوابدید سے قانون کی راہ کو ہی مکمل طور پر نظرانداز کر سکتا ہے۔
اگرچہ سوشل میڈیا وغیرہ پر ٹرمپ کے یہ بیانات مذاق اور تمسخر کے زیادہ کام آرہے ہیں مگر ان بیانات کو امریکا کے سنجیدہ حلقے پوری سنجیدگی سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ جس کا سب سے بڑا اظہار یہ ہے کہ ٹرمپ کے خلاف دو قانونی راستے زیر بحث آگئے ہیں۔ پہلا یہ کہ انہیں 25 ویں ترمیم کے تحت صدارتی ذمہ داریاں انجام دینے سے معذور قرار دے کر گھر بھیج دیا جائے اور نائب صدر جے ڈی وینس صدارت سنبھال لیں۔ جبکہ دوسرا قانونی راستہ یہ کہ ان کا مواخذہ کیا جائے۔ بعض ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان 2 راستوں میں سے کوئی ایک اختیار نہ کیا گیا تو ملک کسی بڑے سنگین بحران سے بھی دوچار ہوسکتا ہے۔
ایسا نہیں کہ صرف انٹیلی جنشیا کی سطح پر ہی یہ باتیں شروع ہوگئی ہیں۔ بلکہ ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات نے امریکی داخلی نظام یعنی اداروں پر بھی سنجیدہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس اور عدلیہ کو اپنے اختیارات کے تحفظ کے لیے سخت موقف اختیار کرنا پڑا۔ سینیٹ کو فوری طور پر قرارداد منظور کرکے ٹرمپ کو یاد دلانا پڑا کہ وہ جنگی نوعیت کے فیصلے من مرضی سے نہیں کرسکتے۔اس قرارداد کا اثر شہریوں کی سطح تک گیا، اس کے نتیجے میں آئینی نظام میں بے یقینی اور شہریوں میں خوف پیدا ہوا کہ آئندہ کوئی صدر قانون یا آئین کی حدود کو مکمل طور پر بھی نظرانداز کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: فقیہ، عقل اور فلسفی
ٹرمپ کے بیانات اور رویے نے صرف داخلی سطح پر ہی مسائل پیدا نہیں کئے بلکہ امریکا کی بین الاقوامی ساکھ پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ بین الاقوامی قانون کو غیر ضروری قرار دینا اور اپنی ذاتی اخلاقیات کو فیصلوں کا معیار بتانا عالمگیر بے چینی کا باعث بنا ہے۔ دوست ممالک امریکا کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ جبکہ گلوبل ساؤتھ کے رہنماء سوال اٹھا رہے ہیں کہ امریکا کے ساتھ ان کے ماضی کے معاہدات باقی ہیں یا وہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی اخلاقیات کی نذر ہوگئے؟ اگر آپ ٹرمپ کے رویے کو صرف چین کے مفاد کے نقطہ نظر سے ہی دیکھ لیں تو کیا یہ چین کو تائیوان پر حملے کا جواز فراہم نہیں کرتے؟ حد تو یہ ہے کہ جب خود ٹرمپ سے عین یہی سوال ہوا تو انہوں نے کہہ دیا، یہ تو صدر شی جن پنگ کی مرضی پر منحصر ہے۔ یعنی اگر وہ تائیوان پر حملہ کرنا چاہیں تو کرلیں۔
چائنیز یا رشینز یہ کیوں چاہنے لگے؟ ان کے تو بین الاقوامی تعلقات قائم ہی تین اہم ترین اصولوں پر ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ دنیا کے ہر ملک کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ کسی بھی ملک کے داخلی امور میں دخل کے خلاف ہیں۔ اور تیسرا یہ کہ دنیا رولز بیسڈ آڈر کے تحت نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت چلنی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ چائنیز نے کبھی ہم سے امریکیوں کی طرح یہ نہیں کہا کہ اپنے نصاب تعلیم سے فلاں آیت نکالو۔ اور نہ ہی کبھی روس نے امریکیوں کی طرح یہ فرمائش کی ہم جنس پرستوں کو بھی عزت دو۔ بین الاقوامی تعلقات میں اس طرح کا مسخرہ پن صرف مغرب کی پہچان ہے۔ وہی مغرب جس کے موجودہ قائد ڈونلڈ ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں ایپسٹین فائلز میں پائی جاتی ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













