ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر امریکا اور برطانیہ نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس سے اپنے فوجی دستوں اور غیر ضروری عملے کو مرحلہ وار واپس بلانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے حکم پر ایران پر امریکی حملہ؟ ممکنہ فوجی آپشنز سامنے آ گئے
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری احتجاجی صورتحال کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر قطر میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنا شروع کر دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق العدید ایئر بیس سے غیر ضروری عملے کو نکالا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ حملے اور جوابی کارروائی کی صورت میں نقصانات سے بچا جا سکے۔
JUST IN🇬🇧🇺🇸❌🇶🇦 Britain joins the United States in withdrawing troops from Al-Udeid air Base in Qatar after Al-Thani told U.S. that Qatar will not become a scapegoat of Israel-Iran war.
🚨Finally, Iran is winning from US and West is leaving Middle East 🤩 pic.twitter.com/Ufvt2Z0X34
— RKM (@rkmtimes) January 14, 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کے نام ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ مدد راستے میں ہے، جب کہ انہوں نے ایران کے خلاف سخت اقدامات پر بھی غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور گرفتار ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی حکام نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو بھی احتیاط برتنے اور فوجی تنصیبات کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ العدید ایئر بیس سے نکالے گئے فوجیوں کو خطے کے دیگر مقامات یا ہوٹلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ امریکی فوجی اڈوں اور بحری مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم امریکی صدر کے مطابق تہران مذاکرات پر بھی آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔












