سپریم کورٹ آف پاکستان نے فرنٹیئر کور (ایف سی) خیبرپختونخوا کی جانب سے ایف سی اہلکار حنظلہ کی ملازمت بحالی کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔
یہ سماعت جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
ایف سی کا مؤقف: فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر برطرفی
سماعت کے دوران ایف سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اہلکار کو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں ملازمت سے برطرف کیا گیا کیونکہ ایسا کنڈکٹ کسی ڈسپلن فورس میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ کا ایک شاندار فیصلہ
عدالت کے ریمارکس: بغیر انکوائری برطرفی ناانصافی
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اہلکار کو اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع دیے بغیر ہی نوکری سے برخاست کر دیا گیا، جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے نے اہلکار کے خلاف ریگولر انکوائری بھی نہیں کی۔ بغیر سنے سزا دینا ناانصافی ہے۔ بے گناہی ثابت کرنے کا موقع دینا ہر شہری کا حق ہے۔
ٹربیونل کے فیصلے کی توثیق
عدالت نے قرار دیا کہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر اہلکار کو ریلیف دیا تھا اور تمام مراعات کے ساتھ ملازمت بحال کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے ایف سی کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اہلکار کی بحالی کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم نہیں پایا۔














