فروری 2026 میں دنیا ایک انولر سورج گرہن دیکھے گی جو اینٹارکٹیکا کے دور دراز علاقے سے نظر آئے گا۔ اس گرہن میں سورج کے مرکز کا تقریباً 96 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور یہ تقریباً 2 منٹ 20 سیکنڈ تک جاری رہے گا۔ ماہرین نے اسے ’رنگِ فائر‘ کا گرہن کہا ہے۔ اسی سال اگست میں یورپ کے کچھ حصوں میں کل سورج گرہن بھی دیکھنے کو ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سپر بلڈ مون: پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چاند گرہن
17 فروری کے اس گرہن کا راستہ زیادہ تر غیر آباد اینٹارکٹیکا کے علاقوں سے گزرتا ہے، اس لیے عام لوگوں کے لیے اسے دیکھنا مشکل ہوگا۔ اس راہ میں صرف 2 آباد مقامات شامل ہیں جو سیاحوں کے لیے تیار نہیں۔

تاہم اینٹارکٹیکا کے دیگر علاقوں، جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکا کے جنوبی حصوں میں لوگ جزوی گرہن دیکھ سکیں گے۔ مسافر کشتیوں پر موجود افراد بھی اس جزوی گرہن کا مشاہدہ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:آنے والے ‘بلڈ مون’ چاند گرہن کے بارے میں 7 عجیب و غریب حقائق کیا ہیں؟
گرہن دیکھنے کے لیے بہترین زمینی مقام ایک مشترکہ فرانسیسی-اطالوی ریسرچ اسٹیشن ہوگا، جو 2005 میں قائم ہوا اور اس وقت صرف 16 سائنسدان اس میں مقیم ہیں۔ گرہن کا راستہ تقریباً 2,661 میل طویل اور 383 میل چوڑا ہوگا، جو اینٹارکٹیکا کے مین لینڈ سے شروع ہو کر ڈیوِس سی کے ساحل تک جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ انولر سورج گرہن سورج کی فوٹوسفیئر کو ’رنگِ فائر‘ کے انداز میں دیکھنے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے، اور ستاروں کے شوقین اور سائنسدان دونوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔













