پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا جلد ہی امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ بحال کر دے گا، جبکہ حالیہ معطلی کو واشنگٹن کی جانب سے امیگریشن پالیسی کے داخلی جائزے کا حصہ قرار دیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کرنے سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں۔ ان کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر بیان کے ذریعے بتایا ہے کہ امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کے نظام کا اندرونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
واضح رہے کہ امریکا نے بدھ کو پاکستان سمیت 74 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ 21 جنوری سے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ اقدام ان خدشات کے باعث کیا گیا ہے کہ بعض ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن سرکاری فلاحی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ نئے مہاجرین امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہے تاکہ مزید تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ارتقائی عمل ہے جس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ امیگرنٹ ویزا کی معمول کی پراسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔
امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کی معطلی کے باعث ہر سال امریکا جانے کے خواہش مند ہزاروں پاکستانیوں کے سفر، تعلیم اور ملازمت کے منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ توقع ہے کہ امریکا میں پاکستانی قونصل خانے آئندہ دنوں میں متاثرہ درخواست گزاروں کو رہنمائی فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ویزا بانڈ پالیسی کا دائرہ مزید وسیع، وینزویلا سمیت 25 نئے ممالک فہرست میں شامل
یہ اقدام امریکا کے پبلک چارج رول سے منسلک بتایا جا رہا ہے، جس کے تحت یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کوئی تارکِ وطن حکومتی امداد پر انحصار کرے گا یا نہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ویزا سروسز معطل کی جاتی رہی ہیں، تاہم حکام کے مطابق اس بار اس اقدام کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ویزا سروسز کی بحالی کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی، تاہم کہا ہے کہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ممالک کو آگاہ کر دیا جائے گا۔













