سپریم کورٹ بار نے جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے ڈنر پر ممبر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ بار نے جسٹس (ریٹائرڈ) شوکت عزیز صدیقی کے اعزاز میں 13 جنوری کو منعقد کیے گئے ڈنر کے معاملے پر نائب صدر سندھ ملک خوشحال خان اعوان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس منصور شاہ جج نہیں رہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن

شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس کے انعقاد سے قبل صدر یا سیکریٹری سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی، جبکہ دعوتی کارڈز پر سپریم کورٹ بار کا نام اور علامت درج تھی۔ یہ اقدام بار اور ایگزیکٹو کمیٹی کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔

نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن کسی بھی سیاسی پہلو کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ایگزیکٹو کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر اس طرح کا انعقاد قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی دارالحکومت کے قلب میں دھماکا سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے، سپریم کورٹ بار کی اسلام آباد دھماکے کی مذمت

سپریم کورٹ بار نے ملک خوشحال خان اعوان کو 7 دن کے اندر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کی ہے اور بتایا ہے کہ مقررہ وقت کے اندر تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں ان کی رکنیت بھی معطل کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟