سپریم کورٹ بار نے جسٹس (ریٹائرڈ) شوکت عزیز صدیقی کے اعزاز میں 13 جنوری کو منعقد کیے گئے ڈنر کے معاملے پر نائب صدر سندھ ملک خوشحال خان اعوان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: جسٹس منصور شاہ جج نہیں رہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن
شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس کے انعقاد سے قبل صدر یا سیکریٹری سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی، جبکہ دعوتی کارڈز پر سپریم کورٹ بار کا نام اور علامت درج تھی۔ یہ اقدام بار اور ایگزیکٹو کمیٹی کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن کسی بھی سیاسی پہلو کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ایگزیکٹو کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر اس طرح کا انعقاد قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی دارالحکومت کے قلب میں دھماکا سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے، سپریم کورٹ بار کی اسلام آباد دھماکے کی مذمت
سپریم کورٹ بار نے ملک خوشحال خان اعوان کو 7 دن کے اندر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کی ہے اور بتایا ہے کہ مقررہ وقت کے اندر تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں ان کی رکنیت بھی معطل کی جا سکتی ہے۔














