امریکا کی جانب سے 75 ملکوں کے امیگرنٹ ویزوں پر کارروائی روکنے کے فیصلے سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں امریکی ماہر خارجہ امور اور جنوبی ایشیا مائیکل کُوگل مین نے اس اقدام کو ایک غیر واضح اور متنازع چارٹ سے جوڑ دیا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ معطل کردی
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ماہر خارجہ امور و جنوبی ایشیا مائیکل کُوگل مین نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے 75 ملکوں کے امیگرنٹ ویزوں پر کارروائی روکنے کا فیصلہ ایک ایسے چارٹ کی بنیاد پر کیا گیا، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔
Pakistan is among 75 countries reportedly hit with an indefinite visa processing freeze by the Trump administration.
The resurgence in Pakistan’s ties with the US apparently didn’t shield it from this.
Bangladesh, Bhutan, and Nepal are also on the list.— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) January 14, 2026
کُوگل مین کے مطابق اس چارٹ میں ان تارکینِ وطن برادریوں کی فہرست شامل ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ امریکا کی سرکاری امداد کا سب سے زیادہ حصہ حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پابندی کی زد میں آنے والے بیشتر ممالک کے نام اسی چارٹ میں بھی شامل ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس چارٹ کے اعداد و شمار کہاں سے حاصل کیے گئے اور ان کی بنیاد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چارٹ میں شامل بعض اعداد و شمار نہایت حیران کن اور مشکوک ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چارٹ کے مطابق امریکا میں مقیم پاکستانی تارکین وطن میں سے تقریباً 40 فیصد کو سرکاری امداد دی جاتی ہے، جبکہ زمینی حقائق اور دستیاب ڈیٹا اس کے برعکس ہیں۔ کُوگل مین کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی برادری کو امریکا کی نسبتاً خوش حال کمیونٹیز میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا منسوخ کر دیا، ہزاروں خاندان پھنس گئے
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے نیویارک میں ایک تقریب کے دوران بتایا تھا کہ امریکی شہریوں کی اوسط سالانہ آمدنی 64 ہزار ڈالر ہے، جبکہ امریکا میں مقیم پاکستانی اوسطاً 76 ہزار ڈالر سالانہ کماتے ہیں، جو اس چارٹ میں دیے گئے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
امریکی ماہرین کے مطابق ایسے غیر مصدقہ اعداد و شمار کی بنیاد پر پالیسی فیصلے سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ا














