روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کے ساتھ الگ الگ فون پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر روس کی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
کریملن کے مطابق ولادیمیر پیوتن نے نیتن یاہو سے بات میں وسط مشرق میں استحکام بڑھانے اور تمام متعلقہ ریاستوں کی شرکت سے مثبت اور تعمیری مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، ولادی میر پیوٹن کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو
روس نے وسط مشرق کے مختلف فریقین کے درمیان ثالثی جاری رکھنے اور سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
اسی طرح ولادیمیر پیوتن نے ایران کے صدر مسعود پزیشکیان سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ روس علاقائی تناؤ کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں اور تعاون جاری رکھے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران میں مظاہروں کے بعد سخت کریک ڈاؤن ہوا اور خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل نے گزشتہ سال ایرانی جوہری مقامات پر حملے کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی پر روس کا سخت ردعمل سامنے آگیا
روس نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور پچھلے سال دونوں ممالک نے 20 سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ بھی طے کیا تھا۔
روس کی ثالثی کی پیشکش کا مقصد خطے میں مزید جنگ یا وسیع کشیدگی کے خطرات کو کم کرنا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب متعدد عالمی طاقتیں اور علاقائی حکام مسلح تصادم کے نقصان دہ اثرات سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔













