وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبے بھر کے تمام اسکولوں، کالجوں، جامعات اور اسپتالوں میں فائبر آپٹک کیبل بچھانے کے لیے 3 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری نوکریاں آن لائن میرٹ پر تقسیم ہوں گی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اعلان
جمعے کے روز کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد عوام کو انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے تاہم اس کے استعمال کی مؤثر نگرانی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نے صوبے کے کم آبادی والے اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ ٹاورز کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ذرائع ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سنگان جیسے علاقوں میں جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے وہاں 4 جی انٹرنیٹ سروس دستیاب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان علاقوں کے اوپر سے گزرتا ہوں تو وہاں 4 جی چل رہا ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ٹاورز کس نے اور کس مقصد کے لیے نصب کیے۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی نئی ذمے داری، چیف آف بگٹی قبائل مقرر
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان سہولتوں کی نگرانی نہ کی گئی تو شدت پسند عناصر انہیں ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔
’ ایف سین نے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیے‘
صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ خاران میں حالیہ کارروائی کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) نے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
ان کے مطابق یہ دہشت گرد بینک لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے اور مجموعی طور پر 15 سے 20 افراد بینکوں میں داخل ہونے کی کوشش میں ملوث تھے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ایک شہری زخمی ہوا، جسے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف مقامات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔
ان کے مطابق دہشتگردوں نے اے ٹی ایم مشینیں توڑنے کی کوشش کی اور ایک بینک سے 34 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب بھی ہوئے۔
مزید پڑھیں: بلوچوں کو قوم پرستی کے نام پر لاحاصل جنگ میں ڈالا گیا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی پریس کانفرنس
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نظریاتی بنیادوں پر کام کرنے والے عناصر اب ڈکیتی اور مالی جرائم کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔














