فرانس کے ثقافتی ادارے لانسٹیٹیو فرانسیس اور ریاض آرٹ، جو شاہی کمیشن برائے شہر ریاض کا منصوبہ ہے، نے ریاض میں فنکاروں کے لیے ایک نئے تخلیقی مرکز لا فیبرک کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔ یہ مرکز 22 جنوری کو باضابطہ طور پر کھولا جائے گا۔
لا فیبرک ریاض آرٹ ہب، جیکس ڈسٹرکٹ میں قائم کیا گیا ہے، جہاں سعودی اور فرانسیسی فنکاروں کو تخلیق، تجربات اور اپنے فنکارانہ تصورات کو عملی شکل دینے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کا سعودی عرب کی جانب سے خیرمقدم
اعلامیے کے مطابق یہ مرکز عوام کے لیے بھی کھلا ہوگا، جہاں فنکارانہ سرگرمیوں کو براہ راست دیکھنے کا موقع ملے گا۔ ان سرگرمیوں میں پرفارمنس آرٹس، ڈیجیٹل اور امیرسیو آرٹس، فوٹوگرافی، موسیقی، سنیما، پکوان اور شاعری شامل ہوں گی۔
لا فیبرک کا بنیادی مقصد سعودی اور فرانسیسی فنکاروں کے درمیان ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا ہے، تاکہ نئے روابط قائم ہوں، مشترکہ طریقہ کار اپنائے جائیں اور مشترکہ تخلیقات وجود میں آئیں۔
یہ منصوبہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مشترکہ وژن سے ہم آہنگ ہے، جنہوں نے سعودی فرانس اسٹریٹجک شراکت داری میں ثقافتی تعاون کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کنگ سلمان ایئربیس پر نئی سہولتوں کا افتتاح کردیا
ویژن 2030 کے اہداف کے تحت لا فیبرک ریاض کو ایک عالمی ثقافتی مرکز میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ منصوبہ سعودی وزارت ثقافت کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سعودی عرب میں فرانس کے سفیر پیٹرک میزونوف کے مطابق لا فایبرک فرانس اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی تعلقات کے ایک نئے باب کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنکاروں کو ایک ساتھ لانا صرف فن اور روایات کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں تخیل ملتا ہے، نئی تخلیقی صورتیں جنم لیتی ہیں اور فن دونوں معاشروں کے درمیان ایک مضبوط پل بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں مسٹر بیسٹ کی پہلی ویڈیو نے ریکارڈ توڑ دیا، ریاض سیزن میں عالمی توجہ کا مرکز
ان کے مطابق یہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فنی مکالمہ باہمی سمجھ بوجھ، اعتماد اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر کا ایک طاقتور ذریعہ ہے اور ویژن 2030 کے مقاصد میں فرانس کے کردار کی عملی مثال بھی ہے۔













