بنگلہ دیش اسلامک موومنٹ، اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد میں شامل نہ ہونے اور 13ویں پارلیمانی انتخابات آزاد حیثیت میں لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جماعت کی قیادت چرمونائی پیر کر رہے ہیں۔
جمعے کے روز ڈھاکہ کے علاقے پرانا پلٹن میں واقع مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ترجمان اور سینئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل غازی عطا الرحمان نے اعلان کیا کہ اسلامی اندولن 300 میں سے 268 حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتار رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، شیڈول میں تبدیلی نہیں، چیف ایڈوائزر محمد یونس
یہ فیصلہ جماعت اسلامی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر کئی دنوں تک جاری رہنے والے سخت مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی مذہبی اتحاد نے متناسب نمائندگی کے مطالبے اور ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے مشترکہ سیاسی تحریک کے بعد مل کر الیکشن لڑنے پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم نشستوں کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی نے اسلامی اندولن کو 40 نشستوں کی پیشکش کی، جبکہ اسلامی اندولن نے 50 نشستوں کا مطالبہ کیا۔ مذاکرات ناکام ہونے پر جماعت اسلامی اور اس کی 10 اتحادی جماعتوں نے جمعرات کو اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کردی، جبکہ 47 نشستیں خالی رکھی گئیں، تاہم اسلامی اندولن نے اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔
غازی عطا الرحمان کے مطابق پارٹی نے ابتدا میں 270 حلقوں میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے، تاہم اپیل کے بعد 2 حلقوں میں نامزدگیاں مسترد ہوئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ باقی 268 حلقوں میں امیدوار انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور کوئی امیدوار دستبردار نہیں ہوگا۔
باقی 32 حلقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسلامی اندولن ایسے امیدواروں کی حمایت کرے گی جن کی سوچ اور نظریات پارٹی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
انہوں نے 5 اگست کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کو ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مذہبی قوتوں کو انصاف اور امتیاز سے پاک معاشرے کے قیام کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے بعض سیاسی حلقوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اسلامی اندولن کے امیر کی جانب سے پیش کی گئی ون باکس پالیسی کو ذاتی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جماعت اسلامی سے علیحدگی کی وضاحت کرتے ہوئے غازی عطا الرحمان نے کہا کہ اگرچہ جماعت اسلامی سیاسی طور پر مضبوط ہے، مگر اسلامی اندولن نظریاتی اور اخلاقی طور پر کمزور نہیں۔
ان کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر کی جانب سے اقتدار میں آکر موجودہ قوانین کے تحت حکومت کرنے کے بیان اور ایک اجلاس میں موجود مسیحی خاتون کو شریعت نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد اسلامی اندولن کو یہ احساس ہوا کہ اتحاد کے اندر رہ کر اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے انتخابات پر یورپی یونین کی کڑی نظر، 200 مبصرین تعینات
پریس کانفرنس میں اسلامی اندولن کے سینیئر رہنما شیخ فضل باری مسعود اور اشرف الاسلام بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہونے والے ہیں۔













