وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سرادر محمد یوسف نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اسلام اور آئین پاکستان کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کو اپنا نظریہ پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی کو بھی مذہب کے نام پر قتل و غارت اور نفرت پھیلانے کا حق نہیں ہے اور اس بارے میں باقاعدہ قانون موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت برائے مذہبی امور دہشتگردی کے جھوٹے بیانیے کی نفی، بین المسالک اور بین المذاہب کی ہم آہنگی کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے قائم علما و مشائخ کونسل کو ضلعی بنیادوں پر وسعت دینے کے لیے کام جاری ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں اسلام اور پورا ملک دہشتگردی کے خلاف ہے وہاں ایک جماعت ایسی بھی ہے جس نے کبھی فتنہ الخوارج کی مذمت نہیں کی۔
مزید پڑھیے: دہشتگردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف
انہوں نے کہا کہ اس جماعت کی صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت ہے اور اس کو چاہیے کہ کراچی، لاہور اور اڈیالہ میں احتجاج کی بجائے اپنے صوبے پر توجہ مرکوز کرے اور وہاں امن و امان کے قیام کی ذمہ داری پوری کرے۔
ہزارہ صوبہ اور عوام کی رائے
ایک اور سوال کے جواب میں سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ کے عوام نئے صوبے کے قیام کے لیے متحد ہیں تاہم پارلیمنٹ میں اس حوالے سے پیش کیے گئے بل قائمہ کمیٹیوں کے حوالے کر کے سرد خانے میں ڈال دیے گئے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی: صوبہ ہزارہ کے حق میں قرار داد منظور
انہوں نے کہا کہ ہزارہ ہمیشہ سے مسلم لیگ ن کا گڑھ رہا ہے تاہم وہاں مقامی قیادت کے اختلافات کی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔
دنیا بھر میں ایک ہی دن یکم رمضان پر بات چیت
رمضان کی آمد پر چاند دیکھنے کے حوالے سے مذہبی امور کے وزیر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی ہر ماہ چاند دیکھ کر رویت کا اعلان کرتی ہے تاہم حکومت کی یہ کوشش ہے کہ نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ایک ہی دن روزہ رکھنے اور عید منانے کا کوئی نظام وضع کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ماضی میں اسلامی ممالک کی تنظیم کی سطح پر بھی بات ہوئی ہے تاہم اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
سال 2026 کے حج اخراجات و زائرین کی تعداد
حج کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے رواں سال بھی پچھلے سال والے نرخ برقرار رکھے ہیں جو کہ طویل وقت کے لیے ساڑھے 11 لاکھ روپے اور مختصر دورانیے کے لیے 12 لاکھ روپے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: حج اخراجات کم کرنے کے لیے بحری سفر و دیگر تجاویز پر غور
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ایک لاکھ 80 ہزار پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے جن میں سے ایک لاکھ 20 ہزار سرکاری جبکہ 60 ہزار نجی کوٹے پر جائیں گے۔












