وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے غربت، بے روزگاری اور قرضوں کے خاتمے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی آج جتنی ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے، خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ملک دشمن عناصر کے اشاروں پر کام کر رہا ہے، مگر جس طرح 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا تھا اسی طرح اس بار بھی اسے مکمل طور پر کچل دیا جائے گا۔
اہم ترین—وزیراعظم۔۔۔امن کمیٹی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف کاغربت، بے روزگاری ، قرضوں سے نجات اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ ،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے،وزیراعظم pic.twitter.com/YVABfIIwdG— Media Talk (@mediatalk922) January 16, 2026
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اسے بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا گیا ہے، اگر ان وسائل کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو ملک کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور عوام کو روزگار فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے عقائد کے مطابق عبادت اور تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے، یہ قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کا حصہ ہے۔ اقلیتی برادری نے تحریک پاکستان اور ملکی ترقی میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم نے معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان کی عظیم کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی نصرت، عوام کی دعاؤں اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جن میں عام شہریوں سمیت سکیورٹی فورسز کے افسران و جوان شامل ہیں، یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیراعظم نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کو مل کر امن، برداشت اور اعتدال کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کے اولین مسلمان آباد کار کون تھے؟
اس موقع پر کنوینر قومی پیغامِ امن کمیٹی مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیراعظم کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور علما کرام ملک بھر میں امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کریں گے۔ اقلیتی نمائندوں نے بھی پاکستان کے امن و استحکام کے لیے حکومت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔














