بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا نے کم از کم ایک طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے، یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور اشاروں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی پابندیوں کا خوف، بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے جڑے منصوبے ترک کردیے
فاکس نیوز نے نامعلوم امریکی عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے ایک طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ہو سکتا ہے یا ان 2 کیریئرز میں سے ایک، جو حالیہ دنوں میں نورفوک اور سان ڈیاگو سے روانہ ہوئے تھے۔
🇺🇸 By order of the US Navy, the USS GEORGE WASHINGTON (CVN-77) aircraft carrier group (the second in a row) has already left Norfolk and is heading to the Mediterranean Sea, from where it will probably move to the Middle East region via the Suez Canal …. Most likely, it will… pic.twitter.com/RFdpCOUFJk
— The Battlefield (@TTheBattlefield) January 16, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت امریکا کے 3 ڈسٹرائرز اور 3 لِٹورل کامبیٹ شپ پہلے ہی خطے میں موجود ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں ایران کے گرد امریکی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا فضائی اور زمینی حملہ آور صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ میزائل دفاعی نظام بھی تعینات کر سکتا ہے، جسے عسکری اصطلاح میں فورس سیٹنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران دسمبر کے اواخر سے شدید عوامی احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ مہنگائی میں اضافے اور ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی کے باعث شروع ہونے والے مظاہرے بعد ازاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے، جن میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی حکام نے ان مظاہروں کا الزام امریکا اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔
🚨🇺🇸🇮🇷 BREAKING: US aircraft carrier en route to Middle East.
Source: SCMP
Follow: @RTSG_News pic.twitter.com/OOKOpruCBg
— RTSG News (@RTSG_News) January 15, 2026
اسی تناظر میں این بی سی نیوز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف تیز اور فیصلہ کن کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم طویل جنگ میں الجھنے کے خدشے کے باعث اب تک کسی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب بعض خلیجی ممالک نے مبینہ طور پر امریکا سے رابطہ کر کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کی اپیل کی ہے، کیونکہ اس سے خطے میں عدم استحکام اور عالمی تیل منڈی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خطے میں تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔












