محمود اچکزئی اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی مقرر، کیا پی ٹی آئی عمران خان کے ہاتھ سے نکل رہی ہے؟

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی بنتے ہی سیاسی منظرنامے میں مختلف خبریں اور چہ مگوئیاں تیزی سے پھیلنے لگی ہیں۔

سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ محمود خان اچکزئی کسی اہم ڈیل کے ساتھ میدان میں اترے ہیں، جس کے اثرات محض وقتی نہیں بلکہ دوررس ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: محمود اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، پی ٹی آئی کے لئے کتنا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

اسی تناظر میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریکِ انصاف کی قیادت اور کنٹرول سے متعلق معاملات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، اور یہ سوال اب گردش کررہا ہے کہ کیا عمران خان کے ہاتھ سے پی ٹی آئی نکل سکتی ہے؟

’یہ کہنا کہ پی ٹی آئی عمران خان کے ہاتھ سے نکل جائےگی مشکل دکھائی دیتا ہے‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار احمد ولید نے کہاکہ یہ تاثر کہ پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے، خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں بالخصوص نوجوان طبقہ اور تحریکِ انصاف سے وابستہ کارکنان بدستور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر پارٹی کی مضبوط موجودگی بھی اس امر کی واضح مثال ہے کہ پی ٹی آئی کی شناخت اب بھی براہِ راست عمران خان سے جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں عمران خان نے پارٹی کے اندر متعدد اہم شخصیات کو الگ کیا، پہلے نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر اور بعد ازاں جہانگیر خان ترین سمیت دیگر بااثر افراد کو پارٹی سے نکالا گیا، تاہم ان فیصلوں سے پارٹی کی عوامی حمایت یا تنظیمی ڈھانچے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا، کیونکہ پارٹی عمران خان سے ہی ہے۔

’عمران خان جو بھی بیانیہ دیتے ہیں کارکنان ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں‘

’عمران خان جو بھی بیانیہ دیتے ہیں اس پر پارٹی کے کارکنان، پارٹی کے سپورٹرز اور پارٹی قیادت نہ صرف اس بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، بلکہ مکمل طور پر اس کو سپورٹ بھی کرتے ہیں۔‘

احمد ولید کے مطابق اگر محمود خان اچکزئی کو عارضی طور پر پارٹی یا اپوزیشن کے معاملات دیکھنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے تو یہ ایک انتظامی نوعیت کا قدم ہو سکتا ہے، تاہم اہم اور حتمی فیصلے بدستور پارٹی کے بانی عمران خان ہی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ علیمہ خان کا کردار بھی اس تمام عمل میں اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی کے نواز شریف سے بہتر تعلقات کے باعث انہیں آگے لایا گیا ہے تاکہ دونوں جانب سے بعض سیاسی معاملات طے پا سکیں اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار ہو۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ خیال کہ اس تمام پیشرفت کے نتیجے میں تحریکِ انصاف عمران خان کے ہاتھ سے نکل جائے گی، موجودہ سیاسی حالات میں انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

’جب تک عمران خان مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوں گے کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی‘

سیاسی تجزیہ کار رانا عثمان کے مطابق محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے فیصلے پر جو تاخیر سامنے آئی، اس حوالے سے کامران مرتضیٰ نے ٹی وی چینلز پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ تاخیر نواز شریف کی ہدایت پر تھی۔ بالآخر اس تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا، تاہم اصل مسئلہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

رانا عثمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے چاہے شاہ محمود قریشی کو آگے کیا جائے، فواد چوہدری ہوں یا کوئی اور سیاسی رہنما، جب تک عمران خان خود مذاکرات کے عمل پر آمادگی اور اپنے رویے میں لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے، کوئی بھی کوشش نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی۔ محض چہرے بدلنے سے سیاسی تعطل ختم نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق محمود خان اچکزئی ایک سنجیدہ، بالغ نظر اور تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ نواز شریف کی جانب سے ان کے لیے احترام پایا جاتا ہے اور ن لیگ کے اندر بھی ان کے وسیع سیاسی روابط اور پرانی وابستگیاں موجود ہیں، اس اعتبار سے انہیں اپوزیشن لیڈر بنانا ایک مثبت اور مناسب قدم کہا جا سکتا ہے۔

’فی الحال کسی قومی اتفاق رائے کی توقع رکھنا مشکل ہے‘

رانا عثمان کے بقول بات چیت کی راہ میں اصل رکاوٹ عمران خان کا سخت اور غیر لچکدار سیاسی رویہ ہے، جب ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب جیل سے یہ پیغام آتا ہے کہ مذاکرات کا نام لینے والے غدار ہیں، تو ایسی صورتحال میں کوئی بھی باشعور سیاستدان اپنے لیے سیاسی بدنامی مول نہیں لے گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اگرچہ یہ کہا جا رہا ہے کہ محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس کو فری ہینڈ حاصل ہے، اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے تحت ملاقاتیں اور مشاورت بھی ہو رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ایسے متضاد پیغامات کے ساتھ کسی قومی اتفاقِ رائے کی توقع رکھنا مشکل ہے۔

رانا عثمان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ دیکھنا ہوگا کہ محمود خان اچکزئی بطور اپوزیشن لیڈر واقعی کوئی نمایاں فرق پیدا کر پاتے ہیں یا نہیں، تاہم عمران خان کے موجودہ رویے کے ہوتے ہوئے انہیں اس حوالے سے کوئی خاص امید نظر نہیں آتی۔

’محمود اچکزئی سیاسی کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں‘

سیاسی تجزیہ کار حماد حسن کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے نواز شریف کے ساتھ دیرینہ اور خوشگوار تعلقات ہیں، جس کے باعث ان کا اپوزیشن لیڈر مقرر ہونا پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

حماد حسن کے مطابق محمود خان اچکزئی نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومت میں شامل جماعتوں کے ساتھ بھی اچھے ورکنگ ریلیشنز رکھتے ہیں، جو سیاسی کشیدگی میں کمی اور پارلیمانی ہم آہنگی کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے۔

’اس سیاسی ہم آہنگی کے نتیجے میں ملک میں استحکام پیدا ہوگا اور موجودہ حکومت کے لیے اپنی آئینی مدت پوری کرنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر کے طور پر موجودگی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دکھائے جانے والے سخت مؤقف اور سیاسی انتشار پر بھی کسی حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے، جس سے سیاست میں تلخی کم ہونے اور مکالمے کی گنجائش پیدا ہونے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: شیر افضل مروت محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر عمران خان کے خلاف بول پڑے

واضح رہے کہ وی ایکسلوسیو میں بات کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی نہ صرف ایک ذمہ دار پارلیمنٹیرین کے طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے بلکہ اپنے آئینی اختیارات کو مؤثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے پارٹی کو آگے بڑھائیں گے، اور یوں جمہوریت کے استحکام میں ایک کلیدی کردار ادا کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا ’نیو اسٹارٹ‘ کے خاتمے سے نئے ایٹمی خطرات بڑھ جائیں گے؟

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ کمیشن کا وائس چیئر منتخب

امریکی امیگریشن پالیسیوں کا المیہ؛ بیمار بیٹے کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا

سی ٹی ڈی کی کارروائی کامیاب ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے 6 دہشتگرد ہلاک

ویڈیو

کیا محمود اچکزئی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کروا پائیں گے؟

 خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی

خیبر پختونخوا میں آج بھی جنرل فیض کی ٹیم بیوروکریسی کے اہم عہدوں پر اور صوبے کی کرتا دھرتا ہے، اختیار ولی خان

کالم / تجزیہ

طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

ایک تھا ونڈر بوائے