کراچی کے مصروف ترین تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو ایک بار پھر فائر سیفٹی کے سنگین مسائل کی یاد دلا دی۔ گراؤنڈ فلور سے بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا، جبکہ عمارت کے گرنے کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی
کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ گزشتہ روز شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ آگ گراؤنڈ فلور سے بھڑکی جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا، جبکہ عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
کراچی گل پلازہ آتشزدگی اپڈیٹ
سارے دستیاب وسائل اور شہری ادارے ناکام
گزشتہ شب سوا دس بجے لگنے والی آگ تاحال بجھائی نہ جاسکی pic.twitter.com/JfC0HvkWDu— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) January 18, 2026
ریسکیو حکام اور اسپتال ذرائع کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں اب تک 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی بنیادی وجہ دم گھٹنا بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال (سول ٹراما سینٹر) منتقل کیا گیا۔
آگ کس طرح پھیلی؟
ریسکیو حکام کے مطابق آگ پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فلور پر لگی، جو دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق آگ پر 40 فیصد قابو پا لیا گیا ہے۔

گراؤنڈ فلور پر موجود بیشتر دکانیں اور وہاں قائم گودام مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔ ان دکانوں میں درآمدی کپڑے، گارمنٹس اور پلاسٹک کا سامان موجود تھا، جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔
عمارت کو پہنچنے والا نقصان
آگ کی شدت کے باعث عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی حصوں کو شدید نقصان پہنچا۔ متاثرہ عمارت کے گرنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاحال مالی نقصان کا حتمی تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔
ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن
آگ بجھانے کے لیے 18 فائر ٹینڈرز، اسنارکل اور واٹر باؤزرز نے حصہ لیا۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر کئی افراد پھنس گئے تھے، جنہیں ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں نے نکالنے کی کوششیں کیں۔
امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے تبت چوک سے گارڈن تک ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
آگ لگنے کی ممکنہ وجہ اور تحقیقات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، تاہم سندھ حکومت نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔













