گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت کیا تھی؟

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

کراچی کے تجارتی اور کاروباری منظرنامے میں گل پلازہ کو ایک منفرد مقام حاصل تھا، جو کئی دہائیوں تک سستی، معیاری اور متنوع خریداری کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع یہ کثیرالمنزلہ شاپنگ سینٹر نہ صرف عام خریداروں بلکہ چھوٹے تاجروں، ہول سیل خریداروں اور آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے بھی ایک مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ حالیہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ یہ عمارت کراچی کی معاشی سرگرمیوں میں ایک اہم ستون تصور کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

گل پلازہ کراچی کی ایک ایسی تجارتی پہچان ہے جسے محض ایک عمارت نہیں بلکہ سستی اور معیاری خریداری کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع ہے، جو صدر اور لائٹ ہاؤس کے قریب ہونے کے باعث شہر کے ہر حصے سے باآسانی قابلِ رسائی ہے۔

گل پلازہ کراچی کے قدیم ترین اور بڑے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد خریداری کے لیے آتے ہیں۔ یہ پلازہ اپنی وسیع ورائٹی کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے، جہاں مقامی مصنوعات کے ساتھ ساتھ چین، تھائی لینڈ، ترکی اور دیگر ممالک سے درآمد شدہ سامان دستیاب ہوتا ہے۔

یہاں کپڑا، کراکری، الیکٹرونکس اور ڈیکوریشن کا سامان نسبتاً کم قیمت پر ملتا ہے۔ بچوں کے کھلونوں، کپڑوں، بے بی بیڈز اور اسکول بیگز کے حوالے سے گل پلازہ کو کراچی کی بڑی مارکیٹوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

گھریلو استعمال کی اشیا میں بیڈ شیٹس، پردے، کچن کا سامان اور پلاسٹک کی مصنوعات ہول سیل نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں کاسمیٹکس، جیولری، ہینڈ بیگز اور برائیڈل ویئر کے بڑے مراکز بھی قائم ہیں۔

گل پلازہ صرف عام خریداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ چھوٹے دکانداروں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں اور سندھ کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے دکاندار یہاں سے ہول سیل ریٹ پر مال خرید کر لے جاتے ہیں۔ آن لائن کاروبار کرنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی یہیں سے سامان حاصل کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے فروخت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی

یہ ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جس میں بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور، میزنائن اور بالائی منزلیں شامل ہیں۔ بالائی حصوں میں گودام اور بعض دفاتر واقع ہیں، جبکہ نچلی منزلیں مکمل طور پر دکانوں کے لیے مختص ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2 قاتل باہم محبت میں گرفتار، آج شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے

پاکستان کا سیٹلائٹ امیجری اور اے آئی کے ذریعے بحری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ

ڈھاکا میں ماریا بی آؤٹ لیٹ کا افتتاح، بنگلہ دیش میں داخل ہونے والی پہلی بین الاقوامی خواتین فیشن برانڈ قرار

صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم سے ‘غزہ بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی

ورلڈ کرکٹ فیسٹیول: پاکستان کی بھارت کیخلاف سنسنی خیز فتح، مصافحہ کی بحالی

ویڈیو

کوئٹہ اور بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سرگرمیوں میں اضافہ

چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی

وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور

کالم / تجزیہ

کیمرے کا نشہ

امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے