ریسکیو سسٹم ناکارہ ثابت ہوا، ہر 10 منٹ بعد پانی ختم ہوجاتا، گل پلازہ کے تاجر حکومتی سہولیات پر پھٹ پڑے

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی کے دوران شہر کا ریسکیو اور فائر فائٹنگ سسٹم مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود 80 سے 100 افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ریسکیو کے نام پر کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت کیا تھی؟

تنویر قاسم کے مطابق فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں ہر 10 منٹ بعد پانی ختم ہو جاتا ہے، جس کے باعث آگ پر قابو پانا ممکن نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ نہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات ہیں، نہ اندر داخل ہونے کا کوئی مؤثر سیٹ اپ موجود ہے۔ آگ عمارت کی اوپری منزلوں پر لگی ہوئی ہے، مگر گاڑیاں اوپر تک پہنچ نہیں پا رہیں۔

صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن نے بتایا کہ مارکیٹ میں متعدد ایگزٹس موجود ہیں، لیکن ریسکیو ادارے اندر پھنسے افراد تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔ فائر فائٹرز کے پاس سیڑھیاں، جدید آلات اور مسلسل پانی کی سپلائی موجود نہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن بار بار رک جاتا ہے۔

تنویر قاسم نے کہا کہ تاجروں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ، وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے مدد کی اپیل کی، مگر طویل وقت گزرنے کے باوجود کوئی ذمہ دار موقع پر نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ مال کا نقصان ہو جانا ایک بات ہے، مگر جانوں کا حساب کون دے گا؟ ابھی بھی لوگ اندر ہیں، بچے اپنے والدین کے لیے رو رہے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ اہلکاروں نے 2 سے ڈھائی سو افراد کو باہر نکالنے میں مدد دی، مگر اس کے بعد ریسکیو کا عمل سست پڑ گیا اور کئی سرکاری رابطے بھی منقطع ہو گئے۔ جانی نقصان کی اطلاعات تو ہیں، تاہم درست تعداد ابھی سامنے نہیں آ سکی۔

تنویر قاسم نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرے۔ اگر اس واقعے میں مزید جانیں ضائع ہوئیں تو اس کا جواب اسی نظام کو دینا ہوگا جو اس وقت بے بس نظر آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟

انہوں نے فوری مطالبہ کیا کہ آرمی اور نیوی کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن میں شامل کیا جائے، کیونکہ موجودہ انتظامات کے ساتھ صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔

گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان