کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی کے دوران شہر کا ریسکیو اور فائر فائٹنگ سسٹم مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود 80 سے 100 افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ریسکیو کے نام پر کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت کیا تھی؟
تنویر قاسم کے مطابق فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں ہر 10 منٹ بعد پانی ختم ہو جاتا ہے، جس کے باعث آگ پر قابو پانا ممکن نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ نہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات ہیں، نہ اندر داخل ہونے کا کوئی مؤثر سیٹ اپ موجود ہے۔ آگ عمارت کی اوپری منزلوں پر لگی ہوئی ہے، مگر گاڑیاں اوپر تک پہنچ نہیں پا رہیں۔
🔥 Tragedy Strikes Karachi Mall in Devastating Fire
– At least 3 lives lost and dozens injured when a massive blaze engulfed Gul Plaza
– Shoppers and staff trapped inside, swiftly evacuated by rescue teams
– Thick black smoke poured out as firefighters battled the intense flames… pic.twitter.com/W5ruUKGLRE— Voice Of Bharat 🇮🇳🌍 (@Kunal_Mechrules) January 18, 2026
صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن نے بتایا کہ مارکیٹ میں متعدد ایگزٹس موجود ہیں، لیکن ریسکیو ادارے اندر پھنسے افراد تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔ فائر فائٹرز کے پاس سیڑھیاں، جدید آلات اور مسلسل پانی کی سپلائی موجود نہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن بار بار رک جاتا ہے۔
تنویر قاسم نے کہا کہ تاجروں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ، وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے مدد کی اپیل کی، مگر طویل وقت گزرنے کے باوجود کوئی ذمہ دار موقع پر نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ مال کا نقصان ہو جانا ایک بات ہے، مگر جانوں کا حساب کون دے گا؟ ابھی بھی لوگ اندر ہیں، بچے اپنے والدین کے لیے رو رہے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ اہلکاروں نے 2 سے ڈھائی سو افراد کو باہر نکالنے میں مدد دی، مگر اس کے بعد ریسکیو کا عمل سست پڑ گیا اور کئی سرکاری رابطے بھی منقطع ہو گئے۔ جانی نقصان کی اطلاعات تو ہیں، تاہم درست تعداد ابھی سامنے نہیں آ سکی۔
تنویر قاسم نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرے۔ اگر اس واقعے میں مزید جانیں ضائع ہوئیں تو اس کا جواب اسی نظام کو دینا ہوگا جو اس وقت بے بس نظر آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟
انہوں نے فوری مطالبہ کیا کہ آرمی اور نیوی کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن میں شامل کیا جائے، کیونکہ موجودہ انتظامات کے ساتھ صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔
گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔













