امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دے دی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کو غزہ کے حوالے سے بنائے گئے اس امن بورڈ میں شمولیت کی باقاعدہ پیشکش موصول ہو چکی ہے۔
🔊PR No.2️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Press Remarks by the Spokesperson https://t.co/loyy8yv0aR
🔗⬇️ pic.twitter.com/9SetjLwP1V
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 18, 2026
ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومتی پالیسی کے منافی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے سامنے اٹھائیں گے۔
غزہ بورڈ آف پیس میں کون کون شامل ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد غزہ سے متعلق امن معاہدہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے خود کو اس بورڈ کا چیئرمین مقرر کرتے ہوئے انتقالی حکمرانی اور امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس میں سابق برطانوی وزیراعظم سر ٹونی بلیئر کو بین الاقوامی رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے، جو 1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے قریبی معتمد اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھی بورڈ کا رکن مقرر کیا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور غزہ کے انتظامی مراحل میں اہم نمائندہ ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر کو بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کیا ہے، جو خصوصی ایلچی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے کے لیے نامزد خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو بھی بورڈ کی رکنیت دی گئی ہے۔
عالمی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے لیے عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کو غزہ بورڈ آف پیس میں نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کے ماہر اور اپالو گلوبل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک روون کو اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے معاملات کی نگرانی سونپی گئی ہے۔
سیکیورٹی امور کے لیے امریکی نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گبریل کو بورڈ کا سیکیورٹی مشیر مقرر کیا گیا ہے، جو غزہ میں سیکیورٹی اور حکمتِ عملی سے متعلق امور پر کام کریں گے۔
بلغاریہ کے سابق سفارت کار اور اقوامِ متحدہ میں مشرقِ وسطیٰ کے سابق خصوصی نمائندے نکولے ملادینوف کو بورڈ اور انٹرنیشنل کمیٹی کے درمیان رابطے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
فلسطینی رہنما اور معروف ٹیکنوکریٹ ڈاکٹر علی شعتھ کو نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو غزہ میں روزمرہ انتظامات، بنیادی سہولیات کی بحالی اور ادارہ جاتی تعمیر نو پر کام کرے گی۔
مزید برآں ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی مسلم اور اسرائیلی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس بورڈ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان، قطری سفارت کار علی الثوادی، مصر کے انٹیلی جنس چیف جنرل حسن رشید اور متحدہ عرب امارات کی وزیر ریم الہاشمی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ امن منصوبہ: امریکا نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیا
اسرائیلی کاروباری شخصیت یاکیر گابے اور نیدرلینڈز کے سابق نائب وزیراعظم سیگرڈ کاگ بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
یہ ایگزیکٹو بورڈ غزہ میں حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے عمل میں بورڈ آف پیس کو معاونت فراہم کرے گا۔














