کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تقریباً 23 گھنٹے کی تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچے، جہاں ان کی آمد پر متاثرہ تاجروں نے شدید احتجاج کیا۔
گل پلازہ میں آگ لگنے کا واقعہ گزشتہ شب 9 بج کر 45 منٹ سے 10 بج کر 15 منٹ کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی کا گل پلازہ کادورہ pic.twitter.com/6CHeTRj9gM
— Hashmi (@hashmi87056649) January 18, 2026
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق طویل امدادی کارروائی کے بعد آگ پر 60 سے 70 فیصد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ تاہم واقعے کے کئی گھنٹے بعد میئر کراچی کی آمد پر تاجروں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔
واضح رہے کہ میئر کراچی سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے چکے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور مالی نقصان پر بھی دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے آگ بجھانے کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مزید پڑھیں: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ دوسرے روز بھی بے قابو، 6 افراد جاں بحق، 58 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم
دوسری جانب ٹریفک پولیس کے مطابق آتشزدگی کے بعد ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر سے گارڈن چوک تک ٹریفک بند کر دی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستے استعمال کریں۔














