امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موصول ہونے والی دھمکیوں کے بعد یو ایس سیکرٹ سروس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث صدارتی دوروں کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جہاں کہیں بھی صدر جاتے ہیں، ایک مضبوط اور جدید حفاظتی ٹیم ان کے ہمراہ ہوتی ہے، جسے ایلیٹ فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل معاونت حاصل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر کا حفاظتی نظام دنیا کے طاقتور ترین سیکیورٹی انتظامات میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ: امریکی سیکریٹ سروس کی سربراہ مستعفی
صدر کی حفاظت کی ذمہ داری پریزیڈینشل پروٹیکٹو ڈویژن کے پاس ہے، جو وفاقی، ریاستی، مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ یو ایس سیکرٹ سروس ایک متحرک نیم فوجی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکی فوج اور خصوصی یونٹس کی خدمات بھی حاصل کرتی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین ہر وقت صدر کے ساتھ موجود رہتے ہیں اور کیمیائی، حیاتیاتی، دھماکہ خیز، ریڈیالوجیکل اور حتیٰ کہ جوہری خطرات تک سے نمٹنے کی تیاری رکھتے ہیں۔
آفس آف پروٹیکٹو آپریشنز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیمز ڈوناہیو کے مطابق، امریکا کے صدر کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز زیرِ غور رکھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی منصوبہ بندی ہفتوں بلکہ مہینوں پہلے شروع کر دی جاتی ہے، جس میں تفصیلی تھریٹ اسیسمنٹ اور پیشگی جائزے شامل ہوتے ہیں۔

صدر کی حفاظت کے لیے بکتر بند گاڑیاں، ٹیکٹیکل یونٹس، کے-9 ٹیمیں، کاؤنٹر سرویلنس آپریشنز اور کیمیائی، حیاتیاتی، ریڈیالوجیکل و نیوکلیئر خطرات سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ بیرونِ ملک دوروں کے دوران بھی سیکرٹ سروس امریکی فوج، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور میزبان ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتی ہے تاکہ ہر سطح پر سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
حالیہ ہائی الرٹ کی ایک بڑی وجہ ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو کلپ ہے، جس میں 2024 میں پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں صدر ٹرمپ پر ہونے والی قریب ترین قاتلانہ کوشش کا حوالہ دیا گیا۔ ویڈیو میں صدر کے کان سے خون بہتا دکھایا گیا جبکہ سیکرٹ سروس کے اہلکار انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر لے جا رہے تھے۔ اس کے ساتھ فارسی زبان میں لکھی گئی ایک دھمکی بھی دکھائی گئی جس میں کہا گیا، اس بار گولی خطا نہیں جائے گی۔’
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ، امریکی ایف بی آئی کا حملہ آور سے متعلق کیا کہنا ہے؟
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے، جو شدید معاشی بحران اور ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث شدت اختیار کر چکا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایرانی پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے ممکنہ امریکی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدام کی بات کی ہے، تاہم فی الحال امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ موجود نہیں۔
امریکا کے اندر بھی سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر چوکس ہیں۔ 11 جنوری کو پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت ایک مشتبہ شے دریافت ہوئی جب صدر ٹرمپ مارالاگو سے سفر کر رہے تھے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق، ‘مزید تفتیش ضروری سمجھی گئی، جس کے بعد صدارتی موٹرکیڈ کے راستے میں تبدیلی کر دی گئی۔’












