جنوبی افریقہ نے شدید اور طویل بارشوں کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد قومی آفت کا اعلان کر دیا ہے۔ سیلاب کے نتیجے میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ہزاروں لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، جن میں بڑی تعداد نے ہمسایہ ملک موزمبیق میں پناہ لی۔
ہفتوں سے جاری بارشیں، 2 ممالک شدید متاثر
جنوبی افریقہ اور موزمبیق میں گزشتہ کئی ہفتوں سے موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوبی افریقہ کی شمال مشرقی صوبوں لیمپوپو اور مپومالانگا میں اب تک 30 سے زائد افراد سیلاب کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
دریاؤں میں طغیانی کے باعث کئی علاقوں میں پانی گھروں اور بستیوں میں داخل ہو گیا، جس سے پورے کے پورے محلے زیرِ آب آ گئے۔
قومی آفت کا باضابطہ اعلان
جنوبی افریقہ کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ الیاس سیتھولے نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ’میں اس صورتحال کو قومی آفت قرار دیتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور لاشوں کی بازیابی میں مصروف ہیں۔

کروگر نیشنل پارک دوبارہ کھلنے کا اعلان
سیلاب کے باعث جنوبی افریقہ کے مشہور کروگر نیشنل پارک کو جمعرات کے روز بند کر کے سیاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔ تاہم حکام کے مطابق بعض علاقوں میں پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔
جنوبی افریقہ نیشنل پارکس نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ پارک میں روزانہ کی سیاحتی سرگرمیاں پیر سے بحال کر دی جائیں گی، تاہم عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
موزمبیق میں صورتحال مزید سنگین
موزمبیق میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار رہیں۔ کئی افراد درختوں اور گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 21 دسمبر سے اب تک کم از کم 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم لاپتہ افراد کی تعداد سامنے آنے کے بعد ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
چھت پر بچے کی پیدائش، امداد نہ پہنچ سکی
موزمبیق کے دارالحکومت ماپوتو کے شمال میں واقع گازا صوبے کی رہائشی چاونا مکواکیوا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی بھابھی نے سیلاب کے دوران چھت پر بچے کو جنم دیا۔
انہوں نے کہا ’ہم 4 دن سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ میرا بھتیجا رات 11 بجے پیدا ہوا، لیکن اب تک نہ ماں کو مدد ملی ہے اور نہ بچے کو۔‘
ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
سول سوسائٹی تنظیم پلاٹافورما ڈی سائیڈ کے ڈائریکٹر ولکر ڈیاس کے مطابق کئی افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
جنوبی افریقہ نے اتوار کے روز جنوبی موزمبیق میں بھی ریسکیو ٹیمیں روانہ کیں، جب ایک گاڑی سیلابی پانی میں بہہ گئی۔ اس گاڑی میں جنوبی افریقہ کے ایک میئر کے وفد کے 5 ارکان سوار تھے۔ یہ واقعہ ماپوتو سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں واقع علاقے چوکوی میں پیش آیا۔
موزمبیق حکومت کے مطابق تازہ اعداد و شمار کے تحت ملک بھر میں سیلاب سے 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی ادارے صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔













