امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے دنیا کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ان کے نئے ’بورڈ آف پیس‘ میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کریں۔
یہ بورڈ عالمی تنازعات کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اس کے چیئرمین خود ٹرمپ ہوں گے۔
کون شامل ہو سکتا ہے؟
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے مختلف عالمی رہنماؤں کو بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے جن میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان، کینیڈا کے مارک کیرنی بھی شامل ہیں۔
بورڈ کے چارٹر کے مطابق ہر ممبر ملک کی رکنیت زیادہ سے زیادہ 3 سال کے لیے ہوگی۔ اگر کسی ملک نے پہلے سال میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ دیے تو رکنیت کی مدت اس سے تجاوز کر سکتی ہے۔
بورڈ کا مقصد اور ڈھانچہ
بورڈ کی ابتدا غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے کی گئی تھی لیکن اس کا دائرہ کار صرف فلسطینی علاقے تک محدود نہیں۔
بورڈ کے تحت ایک اہم بورڈ، ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹس کمیٹی اور ایک ایگزیکٹو بورڈ ہوگا۔
بورڈ کا مقصد
مذکورہ بورڈ کا مقصد استحکام قائم کرنا، قابل اعتماد حکمرانی بحال کرنا اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں دیرپا امن قائم کرنا۔
عالمی تنقید اور تحفظات
بورڈ کا چارٹر بین الاقوامی اداروں جیسے اقوام متحدہ پر تنقید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بورڈ کو ناکام اداروں سے ہٹ کر کام کرنے کی ہمت رکھنی چاہیے۔
رکنیت صرف چیئرمین کے دعوت نامے پر ممکن ہے۔ ٹرمپ بورڈ سے ممالک کو نکالنے کا اختیار رکھتے ہیں جبکہ ان کی جگہ کسی کو تعینات کرنے کا بھی حق انہیں حاصل ہے۔
ابتدائی اقدامات
مصر، ترکی، ارجنٹائن اور کینیڈا کے رہنماؤں کو بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔
ٹرمپ نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، جیرڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف کو بورڈ کا حصہ بنایا۔
روس کی ردعمل
صدر پیوٹن کو بھی بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تاہم روس نے کہا کہ وہ اس آفر کے تمام پہلوؤں کو واشنگٹن کے ساتھ واضح کرنا چاہتا ہے۔
روسی صدر نے سابقہ طور پر ٹرمپ کی عالمی تنازعات حل کرنے کی کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔














