کینیڈا کے انڈے

منگل 20 جنوری 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ جیو پالیٹکس کے بڑے اصولوں میں سے ہے کہ اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہ رکھے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممالک عالمی تجارت میں بھی کسی ایک آئٹم کے لیے ایک ہی ملک پر انحصار نہیں کرتے۔ مثلا تیل ہی دیکھ لیجئے۔ روس کبھی بھی اپنا سارا تیل اس چین کو فروخت نہیں کرے گا جو تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اور نہ ہی چین روس کی ایسی کوئی آفر قبول کرے گا۔ کیوں؟ کیونکہ کسی بدلتی سیاسی صورتحال میں یہ انحصار تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ خود پاکستان کی خارجہ پالیسی اس کی بہترین مثال ہے۔ ہم چین اور امریکا دونوں سے گہرے روابط رکھتے آئے ہیں، اب اس میں روس کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ سو کوئی ایک بھی عالمی طاقت ہمیں مجبور محض سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتی۔ اکثر امریکا ہی یہ حرکت کرتا ہے، اور ہر بار ہم چین کی طرف جھکاؤ بڑھا کر اسے ریورس ہونے پر مجبور کردیتے ہیں۔

مغربی ممالک، بالخصوص یورپین ممالک نے ہی یہ خوفناک غلطی کی کہ اپنا سارا پولیٹکل انحصار دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا پر رکھا۔ پاکستان یا انڈیا چھوڑیے وہ چین اور روس جیسے ممالک سے بھی امریکی نمائندے بن کر بات کرتے آئے ہیں۔ اگر امریکا نے پالیسی اختیار کرلی کہ چین کو تڑیاں دینی ہیں تو یورپین ممالک نے بھی تڑیاں دینی شروع کردیں، امریکا نے فیصلہ کیا کہ تعلقات نارمل کرنے ہیں تو یورپ نے بھی ویسا ہی کیا۔ یوں پچھلے 80 برس کے دوران مغرب سے باہر کے ممالک جتنا امریکا سے تنگ رہے اتنا ہی یہ یورپ کے بھی ستائے ہوئے ہیں۔

سارے انڈے امریکی ٹوکری بلکہ ٹوکرے میں رکھنے کی یہ غلطی اب ان ممالک کے لیے ڈرؤنے خواب کی تعبیر بن کر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت سامنے ہے۔ اور قیادت یا تدبر کا بحران ایسا شدید کہ ناقابل یقین قسم کا مسخرا پن یورپین رہنماؤں کا عام چلن بن گیا ہے۔ مثلا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ لینے کی بات کی تو ایک سال تک یہ اسے ہنسی میں اڑاتے رہے۔ حد یہ کہ جب وینزویلا کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ اب گرین کی باری ہے، شرافت سے حوالے نہ کیا گیا ہم زبردستی لیں گے۔ جانتے ہیں یورپین ممالک نے اس کا جواب کس شکل میں دیا؟ فرانس نے 15، جرمنی نے 13، سویڈن نے 3، ناروے نے 2، جبکہ برطانیہ اور نیدرلینڈ نے ایک ایک فوجی گرین لینڈ کے دفاع کے لیے بھیج دیا۔

تعداد دیکھ کر حیرت ہوئی ناں؟ اگر ہاں، تو پلیز حیران مت ہوں، زوال کے دور میں رنگیلے شاہ جیسے لوگ ہی اقتدار میں ہوتے ہیں۔ان کو لگا تھا ڈونلڈ ٹرمپ لطیفوں کے موڈ میں ہے، چلو ہم بھی مذاق کر لیتے ہیں۔ اور یہ مذاق اب ٹرمپ کے ٹیرف کی شکل میں ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ اب جاکر ای یو ممالک کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے، اور ساتھ یہ وارننگ جاری فرمائی گئی ہے کہ ہم امریکا سے تجارت بند کردیں گے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ امریکا سے تجارت بندکریں گے تو کس سے کریں گے؟ دنیا میں کوئی دوست بنایا ہے آپ نے؟ چین اور روس کو تو یہ عین پچھلے ہفتے بھی تڑیاں دیتے رہے ہیں۔ وہ بھی امریکی خوشامد میں۔

آپ ذرا یہ دیکھیے کہ گرین لینڈ کے مسئلے پر ٹرمپ نے کس صفائی سے انہیں گھیرا ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ پر چین یا روس قبضہ کرسکتے ہیں تو لوگ یہی سمجھے کہ یہ چین اور روس کے ڈراوے والی قدیمی روایت ہے۔ چین اور روس گرین لینڈ پر کیوں قبضہ کرنے لگے؟ لیکن جب ڈنمارک نے کہا کہ گرین لینڈ پر چین اور روس کے قبضے کا کوئی خطرہ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ اندر کی بات سامنے لے آئے، اور کہا ’خود ڈنمارک کی وزیراعظم نے پچھلے سال کہا تھا کہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ گرین لینڈ پر چین اور روس کے قبضے کا خطرہ ہے۔ سو اس خطرے کے سدِباب کے لیے ہی ہم گرین لینڈ لینا چاہتے ہیں۔‘

جانتے ہیں فی الحقیقت ہوا کیا ہے؟ بس اتنی سی بات کہ یورپین ممالک امریکا کو خوش کرنے لیے آئے روز چین اور روس کے خلاف اوٹ پٹانگ بیانات جاری کرتے رہتے ہیں، ڈنمارک کے ایسے ہی ایک بیان کا ڈونلڈ ٹرمپ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ہوتا ہے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے کا نتیجہ۔ اوقات ان یورپین ممالک کی یہ ہے کہ جب 3 روز قبل ٹرمپ گرین لینڈ میں ایک ایک اور 2، 2 فوجی بھیجنے والے ممالک پر ٹیرف لگایا تو صرف 8 گھنٹوں میں ہی یورپ کے سب سے بڑے ملک جرمنی نے اپنے 13 فوجی نکال لیے۔ بخدا دم دبا کر بھاگنے والا منظر تھا۔

اس پوری صورتحال میں ایک ہی مغربی ملک ایسا سامنے آیا ہے جس کے وزیر اعظم نے وہ کیا جو عقل والے کرتے ہیں۔ اور ملک بھی وہ جس کی سرحد امریکا سے ملتی ہے، یعنی کینیڈا۔ وہی کینیڈا جسے ٹرمپ امریکا کا 51 واں صوبہ بنانے کے بات کرتے آئے ہیں۔ وزیر اعظم مارک کارنی پچھلے سال مئی میں امریکہ کے دورے پر گئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی نبض چیک کی۔ اسی سال اکتوبر میں وہ کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملے اور صرف 3 ماہ بعد گزشتہ ہفتے وہ بیجنگ کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے۔ جو مارک کارنی نے بیجنگ میں کیا اور کہا اس نے پورے مغرب کو حیرت زدہ کردیا ہے۔

یہ اسی کینیڈا کے وزیراعظم کا دورہ تھا جس نے 2024 میں امریکا کے کہنے پر چائنیز الیکٹرک کاروں پر 100 فیصد ٹیرف لگا کر ان کی امپورٹ روک دی تھی۔ مارک کارنی نے یہ ٹیرف 100 فیصد سے سیدھا 6 فیصد کی سطح تک گرا دیا اور کینیڈا کی مارکیٹ چائنیز الیکٹرک کاروں کے لیے کھولدی۔ نتیجہ کون بھگتے گا؟ ٹیسلا والا ایلون مسک۔

صرف یہی نہیں بلکہ مارک کارنی نے صدر شی جن پنگ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، ہم چین سے اسٹریٹیجک تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ امریکا کے پڑوسی اور انگریزی زبان بولنے والے 5ویں ملک کے وزیراعظم کا چین سے اسٹریٹیجک تعلقات کے قیام کی بات کرنا تھا۔

اگر آپ اب بھی اس کی گہرائی نہیں سمجھ پائے تو ایک اور اینگل سے سمجھا دیتے ہیں۔ جس چین کو براعظم امریکا سے بیدخل کرنے کے لیے ٹرمپ کو امریکا سے 1200 کلومیٹر دور واقع وینزویلا کا صدر اغوا کرنا پڑا، اسی چین کو وہ کینیڈا اسٹریٹیجک پارٹنر شپ آفر کررہا ہے جس کی امریکا کی دیوار سے دیوار جڑی ہے۔ مارک کارنی یہیں تک نہیں رکے بلکہ چینی صدر سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ’میں نے صدر شی سے گرین لینڈ، ڈنمارک اور کینیڈا کی سالمیت و خودمختاری کے مسئلے پر بھی بات کی۔ اس حوالے سے ہم دونوں کے خیالات میں بڑی ہم آہنگی پائی گئی۔‘

گویا وزیراعظم مارک کارنی نے صاف صاف بتا دیا کہ ٹرمپ نے کینیڈا اور گرین لینڈ کے لیے جو مسائل پیدا کیے ہیں، وہ انہوں نے چینی صدر کے سامنے رکھے۔ ظاہر ہے تعاون مانگنے کے لیے ہی رکھے۔ اہمیت اس کی یہ ہے کہ کینیڈا کا جنوبی پڑوسی امریکا اور شمال مشرقی پڑوسی گرین لینڈ ہے۔ سو گرین لینڈ اگر امریکا کو مل جاتا ہے تو کینیڈا دونوں جانب سے امریکا کے بیچ سینڈوچ ہوگا۔ اور 51ویں امریکی ریاست بننے کا خطرہ مزید شدید۔ سو اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ مارک کارنی گرین لینڈ اور کینیڈا کا مسئلہ بیجنگ کیوں لے گئے؟ لیکن مارک کارنی کا جو جملہ پورے دورے کی ہائی لائٹ بنا وہ یہ رہا ’مجھے یقین ہے کہ ہم نے جو پیشرفت اس شراکت میں کی ہے، وہ ہمیں نیوورلڈ آرڈر کے لیے بہتر طور پر تیار کرتی ہے۔‘

یہ جملہ انہوں نے چینی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران میڈیا کی موجودگی میں کہا۔ یہ امریکی ورلڈ آرڈر سے بغاوت کا صاف اعلان تھا۔ اس کے ذریعے وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر رہے تھے کہ اپنی خود مختاری کے لیے وہ ہر حد تک جا سکتے ہیں۔ ایک بہت ہی قابل غور چیز یہ ہے کہ بیجنگ سے واپسی پر مارک کارنی قطر کے دورے پر پہنچے۔ بظاہر چھوٹے سے اس ملک کے دورے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ مارک کارنی قطر کا دورہ کرنے والے پہلے کینیڈین وزیراعظم ہیں۔ گویا اپنے سارے انڈے امریکا کی ٹوکری میں رکھنے والا کینیڈا اب اپنے انڈے ان ٹوکرویوں تک بھی پہنچا رہا ہے جن ٹوکریوں تک جانے کی کسی بھی کینیڈین وزیراعظم نے کبھی حاجت محسوس نہ کی تھی۔

کیا مارک کارنی نے ان دوروں سے قبل کوئی جذباتی بیان بازی کی؟ کوئی دھمکی دی کہ ہم چین سے ہاتھ ملا لیں گے؟ نہیں، انہوں نے خاموشی سے عین وقت پر اپنا ماسٹر اسٹروک کھیل دیا۔ ان کا کھیل کامیاب ہوتا ہے یا ناکام، یہ بعد کی بات ہے۔ قابل غور چیز یہ ہے کہ ایک مغربی ملک اپنی ماضی کی غلطی کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا نظر آرہا ہے۔امید کی جاسکتی ہے کہ حکمت عملی میں کی گئی اس بڑی تبدیلی سے کینیڈا کے انڈے محفوظ ہو پائیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان