جب کوئی فن پارہ تخلیق کی سرحدوں سے نکل کر پوری دنیا کا ترانہ بن جائے تو وہ محض ایک گانا نہیں رہتا، بلکہ تہذیبی علامت بن جاتا ہے۔ ’جے ہو‘ بھی ایسا ہی ایک گیت ہے، جو ہندوستان کی مٹی سے اُبھرا، ممبئی کی گلیوں میں گونجا، اور پھر ہالی ووڈ کے آسمان پر اپنی روشنی بکھیر گیا۔
2008 میں برطانوی ڈائریکٹر ڈینی بوائل کی فلم Slumdog Millionaire ریلیز ہوئی۔ یہ فلم ممبئی کی جھگی بستیوں کے بچوں اور اُن کے خوابوں کی کہانی تھی۔ فلم نے جہاں سماجی حقیقتوں کو بے نقاب کیا، وہیں یہ بھی دکھایا کہ قسمت کے کھیل میں کبھی کچرا چُننے والا بچہ بھی کروڑ پتی بن سکتا ہے۔
اس کہانی کی دھڑکن موسیقی تھی، اور اس موسیقی کے جادوگر تھے ’اے آر رحمان۔‘ رحمان نے اپنی دھنوں میں مشرقی سازوں کی خوشبو اور مغربی موسیقی کی تازگی کو اس طرح سمویا کہ ناظرین کو ممبئی کی جھگیوں اور گلیوں میں بھاگتے لڑکے بھی آفاقی تجربہ لگے۔
انہی دھنوں میں ایک نغمہ تھا ’جے ہو‘ جو فلم کے بڑے ثقافتی استعارے کے طور پر سامنے آیا۔ اس گانے کے بول اردو کے ممتاز شاعر، فلم ساز اور گیت نگار لیجنڈری ’گلزار‘ نے لکھے۔ ’جے ہو‘ کا مطلب ہے ’کامیابی ہو‘ یا ’فتح ہو‘۔ یہ ہندی اور سنسکرت روایات سے جڑا ہے، جہاں یہ دعائیہ جملے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
’گلزار‘ نے گانے کو محض نعرہ نہیں بنایا بلکہ اسے عوامی دعا کی صورت دی۔ ایسی دعا جو غریب کی زبان سے نکلے، مزدور کے پسینے سے بھیگی ہو، اور لاچار عورت کے دل کی صدا بن کر بلند ہو۔ اس نے عالمی سامعین کو متاثر کیا کیونکہ یہ لفظ مقامی بھی تھے اور آفاقی بھی۔
’اے آر رحمان‘ نے اس گانے میں روایتی طبلے، ڈھولک اور الیکٹرانک بیٹس کو یکجا کیا۔ یہ امتزاج ایسا تھا جس نے گانے کو نہ صرف فلم کے تناظر میں مؤثر بنایا بلکہ ڈسکو، ریڈیو اور اسٹیج کی دنیا میں بھی دوام بخشا۔
’جے ہو‘ کو آواز دی تھی سکھویندر سنگھ نے جن کی آواز میں حیران کن توانائی ہے۔ ان کی آواز جب رحمان کی دھن پر بلند ہوئی تو سننے والے کو لگا جیسے ایک شوریدہ دل، امید کی سرحدوں کو چھو رہا ہو۔
2009 کی صبح وہ لمحہ لے کر آئی جس نے برصغیر کے فنکاروں کے لیے نیا در کھول دیا۔ ’جے ہو‘ نے اکیڈمی ایوارڈ برائے بہترین اوریجنل سانگ (Oscar for Best Original Song) اپنے نام کیا۔ رحمان نے اس موقع پر کہا کہ میرے پاس محبت اور نفرت میں سے ایک انتخاب تھا، میں نے محبت کو چنا، اور اسی نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ خدا کی رحمت، ماں کی دعا، اور سب کی محبت ہے کہ یہ لمحہ نصیب ہوا۔ جب میں اسٹیج پر گیا تو میرے ذہن میں صرف میری ماں تھی۔ میں نے سوچا، اگر آج وہ خوش ہے تو میری سب سے بڑی جیت یہی ہے۔ ایوارڈز آتے جاتے رہتے ہیں، مگر ماں کی دعا سب سے قیمتی ہے۔
اسی تقریب میں رحمان کو بہترین اوریجنل اسکور کا آسکر بھی ملا، یوں وہ 2 آسکر جیتنے والے پہلے بھارتی بن گئے۔ فلم کو مجموعی طور پر 8 ایوارڈز (بیسٹ پکچر، بیسٹ ڈائریکٹر، بیسٹ اسکرین پلے، بیسٹ سنیماٹوگرافی، بیسٹ فلم ایڈیٹنگ، بیسٹ اوریجنل اسکور، بیسٹ اوریجنل سانگ، بیسٹ ساؤنڈ مکسنگ) ملے۔
فلم Slumdog Millionaire میں رحمان کی کمپوز کردہ دھنیں فلم کے جذبات اور کہانی سے اس قدر گندھ گئیں کہ عالمی سطح پر انہیں بے حد سراہا گیا۔ رحمان ایک ہی سال میں 2 آسکر جیتنے والے پہلے موسیقار بنے اور دنیا بھر میں انہیں موزارٹ آف مدراس (Mozart of Madras) کے لقب سے پکارا جانے لگا۔
آسکر کے بعد ’جے ہو‘ صرف ایک گانا نہیں رہا۔ یہ ایک عالمی ترانہ بن گیا۔ مختلف کھیلوں کے میدانوں میں، ریلیوں میں، یہاں تک کہ سیاسی جلسوں میں بھی یہ نعرہ بن کر ابھرا۔ امریکی بینڈ Pussycat Dolls نے اس کا انگریزی ورژن بھی جاری کیا، جس نے مغربی دنیا میں اس کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے۔ یوں ’جے ہو‘ مشرق اور مغرب کے سنگم پر ایک ایسا دلفریب گیت ثابت ہوا جس نے موسیقی کی سرحدوں کو مٹا دیا۔
’جے ہو‘ کی اصل طاقت اس کے تہذیبی پس منظر میں ہے۔ یہ گیت دکھاتا ہے کہ جھگی بستیوں کے بچوں کے خواب بھی ہالی ووڈ کے بڑے اسٹیج پر گونج سکتے ہیں۔ یہ محض ایک دھن نہیں، بلکہ محرومی کے بیچ اُمید کی وہ صدا ہے جو ہر دل کو چھو لیتی ہے۔
’گلزار‘ نے اپنی شاعری سے بتایا کہ کامیابی کا جشن صرف اشرافیہ کا حق نہیں، بلکہ وہ غریب بچہ بھی ’جے ہو‘ کا نعرہ لگا سکتا ہے جس کے پاؤں میں جوتے نہیں۔ رحمان نے اپنی دھنوں سے یہ باور کرایا کہ موسیقی کا کوئی مذہب، کوئی زبان اور کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا۔
ادبی اعتبار سے اسے علامتی گیت کہا جاسکتا ہے۔ یہ استعارہ ہے فتح کا، امید کا اور انسان کی ازلی خواہش کا، کہ وہ مایوسیوں کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھتی رہے۔
’جے ہو‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن اگر خلوص سے تخلیق ہو تو وہ ہر سرحد پار کرجاتا ہے۔ ایک جھگی بستی کی آواز، دینہ کے شاعر کی لفاظی، تمل موسیقار کی دھن اور امرتسری گلوکار کی صدا نے مل کر دنیا کو یاد دلایا کہ امید کبھی نہیں مرتی۔ یہ اس ازلی دعا کا گیت ہے جو کہتی ہے کہ زندگی ہمیشہ جیتے، روشنی ہمیشہ غالب آئے، اور محبت ہمیشہ باقی رہے۔
مدر انڈیا پہلی بھارتی فلم تھی جو 30ویں آسکر ایوارڈز کے لیے 1958 میں نامزد ہوئی لیکن بھارتی کاسٹیوم ڈیزائنر بھنواتھایا نے 1983 میں فلم گاندھی کے لیے 55ویں آسکر ایوارڈز میں پہلا ایوارڈ جیتا تھا۔ رحمان آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والے تیسرے بھارتی شہری ہیں۔ اس سے پہلے ہدایتکار ستیہ جیت رے 1992 میں یہ اعزاز حاصل کرچکے تھے۔
’جے ہو‘ کے تخلیقی سفر میں جہاں رحمان کی دھن اور سکھویندر سنگھ کی آواز کو دنیا بھر میں سراہا گیا، وہیں ’گلزار‘ کی غیر حاضری بھی ایک سوال بنی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنا آسکر ایوارڈ لینے کیوں نہیں گئے تھے؟ تو ’گلزار‘ نے مسکراتے ہوئے ایک سادہ مگر دل کو چھو لینے والا جواب دیا تھا:
’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا۔‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













