وفاقی کابینہ نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی پالیسی میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 سال پرانی امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی ختم ہونے سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
یاد رہے کہ یہ تبدیلیاں اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کی 9 دسمبر 2025 کی سفارشات پر مبنی ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پرسنل بیگج اسکیم کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اب اوورسیز پاکستانی اس اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان نہیں لا سکتے۔ یہ فیصلہ امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے ذریعے نافذ کیا گیا۔
واضح رہے کہ پرسنل بیگیج اسکیم کے تحت اوورسیز پاکستانی اپنی واپسی پر گاڑی کو ذاتی سامان کے طور پر پاکستان لا سکتے تھے تاہم اب وہ آپشن دستیاب نہیں رہا۔
اب صرف 2 اسکیمیں دستیاب ہیں۔ گفٹ اسکیم اور ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم۔ ان اسکیموں کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جا سکتی ہیں لیکن نئی ان اسکیموں کی شرائط کو سخت کر دیا گیا ہے۔
ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم کے تحت اب گاڑی صرف اسی ملک سے درآمد کی جا سکتی ہے جہاں اوورسیز پاکستانی رہائش پذیر ہے۔ تیسرے ملک سے درآمد کی اجازت نہیں۔ یہ شرط اسکیم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے متعارف کی گئی ہے۔ جبکہ پہلے اوورسیز پاکستانی خود چاہے کسی بھی ملک میں مقیم ہوں وہ بآسانی چین، جاپان اور دیگر ممالک سے گاڑیاں بھجوا سکتے تھے۔
واضح رہے کہ اوورسیز پاکستانی کی بیرون ملک قیام کی کم از کم مدت بھی 850 دن کر دی گئی ہے۔ یہ شرط ٹرانسفر آف ریزیڈینس اسکیم کے لیے لازمی ہے۔
گفٹ اسکیم کی پرانی شرائط میں اوورسیز پاکستانی اپنے رشتے داروں کو استعمال شدہ گاڑی بطور تحفہ بھیج سکتے تھے اور کوئی خاص انتظار کا وقت یا فروخت کی پابندی نہیں تھی۔ اب نئی تبدیلی یہ آئی ہے کہ پچھلی درآمد یا گفٹ سے اگلی کے درمیان 850 دن کا وقفہ لازمی ہے۔ پہلے یہ مدت 700 دن تھی۔
یاد رہے کہ یہ وقفہ گڈز ڈیکلریشن کی تاریخ سے شمار ہو گا۔
واضح رہے کہ دونوں اسکیموں کے تحت درآمد کی گئی گاڑیوں پر ایک سال کی ملکیت ٹرانسفر کی پابندی ہے۔ یعنی درآمد کی تاریخ سے ایک سال تک گاڑی فروخت یا منتقل نہیں کی جا سکتی۔ یہ پابندی فوری ری سیل کو روکنے کے لیے ہے۔
گاڑیوں کی عمر کی حد 3 سال (کاروں کے لیے) اور 5 سال (دیگر وہیکلز کے لیے) برقرار ہے۔
مزید پڑھیے: نئی پالیسی کے تحت آنے والی امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتیں کیا ہوں گی؟
اس کے علاوہ دونوں اسکیموں کے تحت گاڑیوں کو کمرشل امپورٹ کی طرح سیفٹی اور انوائرنمینٹل اسٹینڈرڈز پورے کرنے ہوں گے۔ ان میں ایئر بیگز، اے بی ایس سسٹم (اینٹی لاک بریکنگ سسٹم)، ایمیشن کنٹرول، کریش ٹیسٹس اور دیگر فیچرز شامل ہیں۔ وزارت صنعت و پیداوار یا انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے نوٹیفائیڈ اسٹینڈرڈز پر عمل لازمی ہے۔
ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی رعایت جاری رہے گی۔ 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 50 فیصد رعایت اور 1800 سے 2500 سی سی تک کی گاڑی پر 25 فیصد رعایت دستیاب ہے۔
نئی گاڑیاں ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کر کے آزادانہ طور پر درآمد کی جا سکتی ہیں۔ ڈیوٹی اور ٹیکس کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں۔
غیر اہل افراد میں پاکستان سے رقم وصول کرنے والے طلبا، غیر کماؤ خاندانی افراد اور پچھلے 2 سال میں گاڑی درآمد یا گفٹ کرنے والے شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کا سبب کیا ہے؟ لکی موٹر کارپوریشن نے بتادیا
یہ تبدیلیاں اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنے، روڈ سیفٹی بہتر بنانے، ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور فارن ایکسچینج مسائل حل کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ وزارت کامرس متعلقہ ایس آر او کو وزارت قانون کو ویٹنگ کے لیے بھیجے گی۔














