کراچی کے تاریخی تجارتی مرکز میں واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے میں ایک حیران کن پہلو بھی سامنے آیا ہے۔
واقعے کے بعد عمارت کی پہلی منزل پر قائم مسجد میں موجود قرآنِ پاک مکمل طور پر محفوظ رہے۔ ریسکیو اہلکار کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسجد کے ریک میں موجود ایک بھی قرآنِ مجید نیچے نہیں گرا، جبکہ مسجد میں بچھائی گئی دریاں اور دیگر سامان بھی محفوظ رہا۔
یہ بھے پڑھیے: اینکر پرسن اقرارالحسن کی گل پلازہ آمد، ریسکیو اقدامات میں تاخیر پر برہم، پی پی رہنما سے تلخ کلامی
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق مسجد کے قریب اور اندر اب بھی شدید گرمی (ہیٹ) موجود ہے، تاہم اس کے باوجود مسجد اور مقدس کتب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری طرف ہولناک آگ کے بعد ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جہاں اب تک کم از کم 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ 83 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر کے باہر لاپتہ افراد کی فہرست آویزاں کردی گئی ہے، جس کے مطابق مزید 12 افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں، جس کے بعد لاپتا افراد کی مجموعی تعداد 83 ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ آتشزدگی: میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر کے ورثا کی مالی معاونت کا اعلان
ریسکیو حکام کے مطابق فائر فائٹرز اور امدادی کارکن پیر کے روز بھی گل پلازہ کے دھواں چھوڑتے ملبے سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔ یہ آگ شہر کی گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی آتشزدگی قرار دی جا رہی ہے، جو ہفتے کی شب لگی اور 24 گھنٹوں سے زائد وقت تک بھڑکتی رہی، جس کے بعد اسے بڑی حد تک قابو میں لایا گیا۔
گل پلازہ ایک وسیع و عریض کثیر المنزلہ تجارتی عمارت ہے، جس میں تقریباً 1,200 دکانیں قائم ہیں اور اس کا رقبہ فٹبال گراؤنڈ سے بھی بڑا بتایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام لاپتا افراد کا سراغ نہیں لگا لیا جاتا۔












