کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے سے متعلق دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے ہیں، جنہوں نے حادثے کو ایک بڑے سانحے میں بدلنے کی وجوہات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
متاثرہ دکانداروں کے مطابق گل پلازہ میں مجموعی طور پر 26 داخلی و خارجی دروازے موجود ہیں، تاہم معمول کے مطابق رات 10 بجے کے بعد 24 دروازے بند کر دیے جاتے تھے اور صرف 2 گیٹس کھلے رکھے جاتے تھے۔
افسوسناک واقعے کے وقت بھی یہی صورتحال تھی، جس کے باعث عمارت میں موجود افراد کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازہ: آنکھوں میں امید لیے پریشان اہل خانہ کیا کہتے ہیں؟
دکانداروں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت عمارت میں کوئی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا، جبکہ آگ انتہائی تیزی سے پھیل گئی اور چند ہی لمحوں میں پوری مارکیٹ دھوئیں سے بھر گئی۔
صورتحال اس وقت مزید خطرناک ہوگئی جب آگ کے دوران بجلی بھی بند تھی، جس کے باعث عمارت مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی۔ نہ کچھ نظر آرہا تھا اور نہ ہی کسی کو یہ سمجھ آرہا تھا کہ باہر نکلنے کا راستہ کون سا ہے۔
متاثرین کے مطابق اندھیرے اور دھوئیں کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی، جبکہ دم گھٹنے کے سبب کئی افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ دکانوں میں موجود ورکرز اور گاہک خوف و ہراس کا شکار ہو گئے، اور کچھ ہی دیر بعد متعدد افراد بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔
یہ بھی پڑھیے ’گل پلازہ کی آگ اور وہ ادھوری خریداری جو کبھی مکمل نہ ہو سکی‘
دکانداروں نے بتایا کہ ریسکیو کا بروقت انتظام نہ ہونے کے باعث کئی افراد کو اپنی مدد آپ کے تحت عمارت سے باہر نکالا گیا، جس سے کئی قیمتی جانیں بچ سکیں، تاہم بند دروازوں اور ناقص حفاظتی انتظامات نے جانی نقصان میں اضافہ کر دیا۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔ اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ 83 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
سانحے نے شہر میں تجارتی عمارتوں کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔














