۔
کوئٹہ کے مرکزی تجارتی علاقے پرنس روڈ پر واقع حلیم کمپلیکس میں بدھ کی صبح اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 4 منزلہ پلازہ، جس میں تقریباً 200 دکانیں اور ایک بیسمنٹ شامل ہے، آگ کی شدت کے باعث شدید نقصان سے دوچار ہو گیا۔
ریسکیو کارروائی اور مشکلات
ریسکیو حکام کے مطابق آگ صبح تقریباً ساڑھے 5 بجے لگی۔ فائربریگیڈ کی متعدد گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ کو ملحقہ عمارتوں اور قریبی دکانوں تک پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پلازہ کا پیچیدہ ڈھانچہ، تنگ راستے اور بیسمنٹ کی موجودگی آگ بجھانے میں بڑی رکاوٹ بنی رہی، جس کے باعث ریسکیو آپریشن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
A fire incident occurred at Liaquat Bazaar. PDMA rescue teams @PDMABalochistan along with municipal corporation Quetta. Rescuers promptly arrived at the scene. No casualties reported. Fire was caused by electric short circuit @QESCO . Teams are on site. pic.twitter.com/rN34LSihUv
— Muhammad Hamza Shafqaat (@beyondfiles) January 20, 2026
دکانداروں کا نقصان، اپنی مدد آپ
دکان داروں کے مطابق آگ لگتے ہی انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قیمتی سامان نکالنے کی کوشش کی، تاہم شدید دھوئیں، بلند شعلوں اور محدود رسائی کے باعث زیادہ تر دکانوں کا سامان بچانا ممکن نہ ہو سکا۔
متعدد دکانداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں لاکھوں سے کروڑوں روپے تک کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
3 روز میں دوسرا بڑا واقعہ
واضح رہے کہ پاکستان میں 3 روز کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا بڑا آتشزدگی کا واقعہ ہے۔ اس سے قبل ہفتے کی رات کراچی کے ایک بڑے تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر تاحال مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔
کراچی کے واقعے میں اب تک 23 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اربوں روپے کے مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
مسلسل پیش آنے والے ان واقعات نے تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی رسپانس سسٹم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔












