سینیٹ کے اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے خطاب کرتے ہوئے ایوان کے اندر مثبت، باوقار اور بامقصد پارلیمانی ماحول برقرار رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے انتخابی عمل، ووٹ کے احترام، ماضی کے سیاسی تجربات اور انتخابی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، بات چیت کا اختیار کسی کو نہیں دیا، رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو سنجیدہ اور خوشگوار ماحول قائم ہوا، اسی جذبے کو ایوان کے اندر بھی برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ووٹ کے احترام کے بغیر جمہوریت آگے نہیں بڑھ سکتی
انہوں نے کہا کہ ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر عوام کے فیصلے کو مؤثر نہ مانا جائے تو جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج پر اعتراض اور ہار تسلیم نہ کرنے کا رویہ کوئی نئی بات نہیں۔

2018 کے انتخابات کا حوالہ
رانا ثنا اللہ نے یاد دلایا کہ 2018 کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نئی صف بندیاں اور مخصوص گروہوں کی تشکیل سب کے سامنے تھی، جس کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا تھا۔
سیاسی جوڑ توڑ اور نتائج پر اعتراضات
انہوں نے کہا کہ اس دور میں بعض عناصر کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لایا گیا اور انہیں سیاسی شناخت دی گئی، جو انتخابی عمل میں مداخلت کی واضح مثال تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی اپوزیشن کا بھی یہی مؤقف تھا کہ متعدد نشستوں پر نتائج تبدیل کر کے ایک جماعت کو اکثریت دلائی گئی۔
مکالمے اور اصلاحات کی ضرورت
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ہم صرف مخصوص تاریخوں یا واقعات پر اٹکے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو آج کی اپوزیشن 2018 کے مؤقف کی تائید کر سکتی ہے اور نہ ہی موجودہ حالات میں صرف ایک نکتے پر اصرار مسئلے کا حل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ اس حقیقت پر متفق ہونا ہوگا کہ پاکستان میں انتخابی نظام پر مکمل اعتماد موجود نہیں، جس کے باعث ہر الیکشن کے بعد الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس میں نہ کوئی واضح جیتنے والا ہوتا ہے اور نہ ہارنے والا۔
انتخابی نظام بہتر بنانے کی تجویز
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ اگر تمام سیاسی قوتیں اس نکتے پر متفق ہو جائیں تو پھر بیٹھ کر انتخابی نظام کو بہتر بنانے پر سنجیدہ غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی قوانین، الیکشن کمیشن کے کردار اور انتخابی طریقۂ کار پر بات چیت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے انتخابات ہوں جو بعد میں تنازعات اور الزامات کی نذر نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے بھی پارلیمان میں آ کر دھاندلی کے الزامات لگائے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا، مگر اس وقت جو جواب دیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اب جبکہ اپوزیشن خود پارلیمان کا حصہ ہے اور اس کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔











