بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نیتن نبین کو اپنا 12واں قومی صدر مقرر کر دیا ہے۔ وہ جے پی نڈا کی جگہ لے رہے ہیں، جن کا دور ختم ہو چکا ہے۔
نیتن نبین پٹنہ بہار سے تعلق رکھتے ہیں اور بینک پور حلقہ سے 5 بار بہار اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ یہ تقرری بغیر کسی مقابلے کے ہوئی اور انہیں پارٹی کی اعلیٰ قیادت، بشمول وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کی مکمل حمایت حاصل رہی۔ 45 سال کی عمر میں وہ بی جے پی کے سب سے کم عمر صدر بن گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کو ضمانت ملنے پر احتجاج
ماہرین کے مطابق نیتن نبین کی تقرری محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ نریندر مودی کے بھارت کی سیاسی تصویر کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں جمہوری اقدار اور شفافیت کی بجائے وفاداری، خاندانی پس منظر اور جبری سیاست کو اہمیت دی جاتی ہے۔
نیتن نبین کو مودی سرکار کا چہیتا اور پارٹی کے طویل تعلقات رکھنے والا رہنما قرار دیا گیا ہے، اور ان کی صدارت کے لیے نام وزیراعظم مودی نے ذاتی طور پر تجویز کیا تھا۔ اس تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاداری اور اطاعت کو بھارتی سیاست میں حقیقی کارکردگی اور عوامی قیادت پر ترجیح دی جاتی ہے۔
مودی نے نیتن نبین کی صدارت کی تقریب میں ان کے سفر ’شونیا سے شکھر‘ (صفر سے عروج تک) قرار دیا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ بھارت میں جمہوری پسماندگی، آرٹیکل 370 کی غیر مشورتی منسوخی، کشمیری بحران اور بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کو چھپانے کی کوشش ہے۔
نیتن نبین بی جے پی کے نیپو کِڈ کی واضح مثال ہیں۔ وہ جن سنگھ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد پٹنہ ویسٹ کے طویل عرصہ تک بی جے پی ایم ایل اے رہ چکے تھے۔
والد کے انتقال کے بعد نیتن نبین نے سیاست میں قدم رکھا اور آرگنائزیشن مین کے طور پر تیزی سے ابھرے، جو مودی کے سخت مرکزی کنٹرول والے ڈھانچے میں وفاداری اور اطاعت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کا سیاسی ریکارڈ بھی تنازعات سے خالی نہیں۔ نیتن نبین پر پانچ فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جو غیر قانونی اجتماعات، ہنگامہ آرائی اور عوامی نافرمانی سے متعلق ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی، مگر یہ بات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بی جے پی قیادت قانون سے بالا تر سمجھی جاتی ہے، جبکہ اختلاف کرنے والوں کو ریاستی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2017 میں کانگریس رہنما عبدالجلیل مستان کے خلاف سیڈیشن کا مقدمہ درج کرانا، آزادی اظہار کے بجائے نوآبادیاتی دور کے قانون کو سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کرنے کی مثال ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں مسلمانوں سے بدترین امتیازی سلوک پر مولانا ارشد مدنی کے انکشافات، بی جے پی تلملا اٹھی
مزید برآں، بہار کے وزیرِ تعمیراتِ سڑک کے طور پر 2024 میں تقریباً 15 پلوں کا منہدم ہونا شدید انتظامی ناکامی کی علامت تھی، جس سے عوامی زندگی متاثر ہوئی اور ریاست کو تقریباً 3 ہزار 953 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود نیتن نبین نے نہ استعفیٰ دیا، نہ شفاف تحقیقات کیں، بلکہ سیاسی ترقی حاصل کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن نبین کی ترقی محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ مودی کے بھارت میں حکمرانی کے ناکام نظام، اختلاف رائے پر پابندی اور وفاداری کو سب سے بڑا انعام دینے کے کلچر کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔













