سعودی کابینہ نے غزہ بورڈ آف پیس کی حمایت کردی، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی کابینہ نے غزہ پٹی کے لیے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فلسطینی علاقے کی انتظامیہ کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ بورڈ آف پیس کی حمایت کی ہے۔

کابینہ کا اجلاس منگل کو ریاض میں منعقد ہوا جس کی صدارت سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی

اجلاس میں وزرا نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد اور انسانی امداد کی ضرورت پر زور دیا اور فلسطینی اتھارٹی کے علاقے میں واپس آنے اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا، تاکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں، عرب امن منصوبے اور دو ریاستی حل کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔

سعودی کابینہ نے جنگ بندی کے معاہدے کی بھی حمایت کی اور شامی جمہوری افواج کو شامی ریاست میں ضم کرنے کے اقدام کو تسلیم کرتے ہوئے ملکی امن اور شامی خودمختاری پر اپنا عزم دہرایا۔

یمن کے حوالے سے وزرا نے کہاکہ سعودی عرب بحران کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے اہم شعبوں کی ترقی کے لیے 507 ملین ڈالر کے منصوبوں اور پروگراموں کا آغاز کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2025 میں سعودی عرب یمن کے لیے اقوام متحدہ کی فہرست میں عرب ممالک میں پہلے اور عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہا۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پچھلے 5 سال کے دوران سعودی عرب میں زیادہ تر غیر تیل والی سرگرمیوں نے سالانہ 5 سے 10 فیصد کی شرح نمو حاصل کی ہے، جو وژن 2030 کے اہداف اور پائیداری کے فروغ کے مطابق ہے۔

مزید پڑھیں: بورڈ آف پیس: ایک ارب ڈالر دیں، مستقل رکنیت لیں، ٹرمپ کی پیشکش

وزرا نے پاکستان، عراق اور کرغزستان کے ساتھ طے شدہ متعدد ایم او یوز کا جائزہ لیا اور متعدد سعودی حکام کو مختلف وزارتوں میں اعلیٰ عہدوں پر ترقی دینے کی منظوری دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp